• تاریخ: 2012 جنوری 01

زيارت عاشورا کى سند اور متن کے بارے ميں وضاحت فرمايئے؟


           

زيارت عاشورا کى سند اور متن کے بارے ميں وضاحت فرمايئے
 

اجمالی جواب :

اس زيارتنامہ کا اصلى مصدر، دوکتابيں، يعنى جعفربن محمد قولويہ قمى (وفات 348 ہجرى) کى تاليف: "کامل الزيارات" اور شيخ طوسى (385-460 ہجرى) کى کتاب "مصباح المتہجد" ہے- بعض مبانى کے مطابق ابن قولويہ کى سند معتبر ہے، ليکن کتاب "مصباح المتہجد" ميں بيان کى گئى روايت کى سند کے بارے ميں کہنا چاہئے کہ اس کتاب ميں مجموعى طور پر اس روايت کے لئے دوسنديں ذکر کى گئى ہيں کہ ان کے راويوں کے بارے ميں تحقيق تين حالتوں سے خارج نہيں ہے: يا اس کے راوى ثقہ (موثق) ہيں يا ايک طبقہ ميں ايک ايسے راوى، جس کى وثاقت کى تايئد نہيں کى گئى ہے،کے ساتھ ايک موثق راوى قرار پايا ہے، يا راوى کى وثاقت کے بارے ميں کچھ قرائن پائے جاتے ہيں- لہذا مجموعى طور پر کہا جاسکتا ہے کہ زيارت عاشورا کى سند صحيح ہے اور اس ميں کوئى مشکل نہيں ہے- اس زيارتنامہ کے متن ميں چونکہ تمام بنى اميہ پر لعنت کى گئى ہے، اس لئے اس کے بارے ميں کچھ اعتراضات کئے گئے ہيں ہمارى اسى سائٹ ميں ان اعتراضات کا تفصيلى جواب ديا گيا ہے – مزيد وضاحت کے لئے تفصيلى جواب ملاحظہ ہو-

 تفصیلی جواب

زيارت عاشورا، امام باقر (ع) اور امام جعفر صادق (ع) سے ہم تک پہنچى ہے- اس بنا پر اس کى سند کو قابل اعتبار جاننا چاہئے- اس کے علاوہ اس کا مضمون بهى قرآن مجيد کى تعليمات اور دوسرى روايتوں سے تعارض نہيں کرتا ہے کہ اگر ايسا ہو تو اسے قابل اعتبار احاديت کى فہرست ميں قرار نہيں ديا جاسکتا ہے- مندرجہ ذيل وضاحت ميں ان دونوں موضوعات کے بارے ميں اشارہ کيا گيا ہے-

1- زيارت عاشورا کى سند:

اس زيارتنامہ کا اصلى مصدر، دوکتابيں، يعنى جعفربن محمد قولويہ قمى (وفات 348 ہجرى) کى تاليف: "کامل الزيارات" اور شيخ طوسى (385-460 ہجرى) کى کتاب "مصباح المتہجد" ہے-   اس بنا پر ہم پہلے "کامل الزيارات" اور اس کے بعد "مصباح المتہجد" پر بحث کريں گے:

1-1-ابن قولو يہ کى کتاب "کامل الزيارات":

ابن قولويہ زيارت عاشورا کے ثواب کے بارے ميں لکهتے ہيں:

حَدَّثَنِی حَكِیمُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ حَكِیمٍ وَ غَیرُهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْهَمْدَانِی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الطَّیالِسِی عَنْ سَیفِ بْنِ عَمِیرَةَ وَ صَالِحِ بْنِ عُقْبَةَ جَمِیعاً عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِی، وَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ صَالِحِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ مَالِكٍ الْجُهَنِی عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ الْبَاقِرِ ع قَالَ مَنْ زَارَ الْحُسَینَ ع یوْمَ عَاشُورَاءَ مِنَ الْمُحَرَّمِ...". اور اس کے بعد زيارت عاشورا کى سندکے بارے ميں کہتے ہيں: قَالَ صَالِحُ بْنُ عُقْبَةَ الْجُهَنِی وَ سَیفُ بْنُ عَمِیرَةَ قَالَ عَلْقَمَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِی فَقُلْتُ لِأَبِی جَعْفَرٍ (ع) عَلِّمْنِی دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِی ذَلِكَ الْیوْمِ...".

علقمہ بن محمد حضرمى کہتے ہيں: ميں نے ابى جعفر (ع) کى خدمت ميں عرض کى: ميرے لئے ايک دعا کى تعليم فرمايئے کہ اس روز جب قريب سے زيارت بجالانے کے لئے جاوں، اسے پڑهوں اور مجهے ايک ايسى دعا سکها ديجیے کہ اگر نزديک سے حضرت (ع) کى زيارت کے لئے نہ جاسکا بلکہ کسى دور شہر کے مکان کى چهت سے حضرت (ع) کى طرف اشارہ کرکے سلام کروں تو اس وقت اس دعا کو پڑهوں-

حضرت (ع) نے فرمايا: اے علقمہ! جب حضرت (ع) کو اشارہ کرکے سلام کرو گے تو اس کے بعد دو رکعت نماز پڑهنا ۔۔۔۔ ابا عبداللہ الحسين (ع) کى عاشورا کے دن زيارت کہنا: سلام ہو آپ پر اے ابا عبداللہ، سلام ہو آپ پر اے فرزند رسول خدا، سلام ہو آپ پر اے خدا کے منتخب اور منتخب شدہ فرزند، سلام ہو آپ پر اے فرزند اميرالمومنين اور جانشينوں کے سردار کے فرزند پر، سلام ہو آپ پر اے فاطمہ (ع) کے فرزند، جو بہشت کى خواتين کى سردار ہيں۔۔۔[1]

پس روايت دو افراد "علقمہ بن محمد حضرمى" اور "مالک بن اعين جہنى" کے ذريعہ معصوم تک پہنچتى ہے- دونوں طريقوں سے، صالح بن عقبہ نے ان سے نقل کيا ہے، بالاخر ايک ميں سيف بن عميرہ کے ہمراہ ہے اور دوسرى ميں اکيلا ہے- ذيل کی روايت صالح بن عقبہ و سيف بن عميرہ بن حضرمى نے امام باقر (ع) سے روايت کى ہے- حقيقت ميں روايت تين سندوں سے نقل کى گئى ہے:

الف. حكیم بن داود بن حكیم و غیره، عن محمد بن موسى الهمدانی، عن محمد بن خالد الطیالسی ، عن سیف بن عمیرة عن علقمة بن محمد الحضرمی.

ب. حكیم بن داود بن حكیم و غیره، عن محمد بن موسى الهمدانی، عن محمد بن خالد الطیالسی، عن صالح بن عقبه، عن علقمة بن محمد الحضرمی.

ج. محمد بن إسماعیل، عن صالح بن عقبه، عن مالك الجهنی، عن أبی جعفر الباقر (ع).

تيسرى سند ميں دو ممکنات پائے جاتے ہيں:

الف: ابن قولويہ نے زيارت عاشورا کو محمد بن اسماعيل کى کتاب سے نقل کيا ہوگا، چنانچہ شيخ طوسى نے بهى اس کى کتاب سے نقل کيا ہے کہ اس صورت ميں جيسا کہ بيان کيا جائے گا روايت کى سند محمد بن اسماعيل تک اور اس کے بعد صالح بن عقبہ صحيح ہوگی-

ب- محمد بن اسماعيل بهى محمد بن خالد الطياسى پر عطف ہيں کہ اس صورت ميں سند اس طرح بنتى ہے:

حكیم بن داود، محمد بن موسی الهمدانی، محمد بن خالد الطیالسی ، محمد بن اسماعیل بن بزیع، صالح بن عقبه، مالك الجهنی.

البتہ يہ احتمال کافى بعيد لگتا ہے، چونکہ يہ احتمال قوى تر ہے کہ محمد بن اسماعيل کى کتاب اس زمانہ ميں مشہور تهى اور شيخ طوسى اور ابن قولويہ دونوں نے اس کتاب سے زيارت کو نقل کيا ہوگا-

ابن قولويہ کى سند کى تحقيق:

ابن قولويہ اپنى کتاب کے مقدمہ ميں فرماتے ہيں:

ميں ان تمام روايتوں کو نہيں جانتا ہوں جو اہل بيت (ع) کى طرف سے زيارت وغيرہ کے بارے ميں نقل کى گئى ہيں، ليکن جو بهى روايتيں ميں نے اس کتاب ميں درج کى ہيں وہ ہمارے اصحاب سے موثق طريقہ پر نقل ہوئى ہيں اور ميں نے کسى ايسى روايت کو درج نہيں کيا ہے جسے مجہول افراد نے ائمہ کى روايتوں کو غير معروف راويوں سے يا علم حديث ميں غير مشہور افراد سے نقل کيا ہو- [2]

شيخ حرعاملى، على بن ابراہيم کى تفسير کے راويوں کى وثاقت کى گواہى ديتے ہوئے "کامل الزيارات" کے راويوں کے بارے ميں کہتے ہيں: اور اس طرح جعفر بن محمد بن قولويہ نے بهى "کامل الزيارات" کے راويوں کى وثاقت کى گواہى دى ہے اور کتاب "کامل الزيارات" کى ابتداء ميں اس کى صراحت، على بن ابراہيم کى صراحت کى بہ نسبت واضح تر ہے- [3]

البتہ بعض بزرگوں نےا س مبنا کو قبول کيا ہے کہ يہ عبارت صرف پہلے واسطہ کى توثيق کرتى ہے، يعنى جس شخص سے ابن قولويہ بلا واسطہ نقل کرتے ہيں وہ موثق ہے- [4] يہ مبنا وہى ہے جسے مرحوم آيت اللہ خوئى (رح) نے بالآخر قبول کيا ہے، [5] اگر چہ ان کى گزشتہ تحريروں ميں آيا ہے کہ: يہ عبارت اس کى واضح دلیل رکهتى ہے کہ قولويہ نے ايک روايت کو معصومين (ع) سے نقل نہيں کيا ہے، مگر يہ کہ ہمارے موثق اصحاب ميں سے ہوں- [6]

اس کے پيش نظر، اس حديث کے راويوں پر ايک نظر ڈالنا، دلچسپى سے خالى نہيں ہے:

حکيم بن داودبن حکم:

اگرچہ ان کى علم رجال کى کتابوں ميں توثيق نہيں کى گئى ہے، ليکن ان کو ضعيف بهى نہيں کہا گيا ہے- صاحب "تہذيب" نے ان سے حديث نقل کى ہے- [7] محدث نورى نے اسے ابن قولويہ کے مشايخ کے عنوان سے ياد کيا ہے- [8] اس بنا پر يہى کہ اس کى عام توثيق کسى تضعيف کے ساتھ معارض نہيں ہے، اس کے قابل اعتبار ہونے کے لئے کافى ہے-

محمد بن موسى الہمدانى:

بعض افراد نے اسے تضعيف کہا ہے، [9] البتہ مرحوم آيت اللہ خوئى کى تعبير ميں "کامل الزيارات کے رجال ميں ابن قولويہ کى توثيق، اس تضعيف کے معارض ہے اور يہ تعارض تضعيف و توثيق ميں دونوں کو ساقط کرتا ہے اور نتيجہ کے طور پر محمد بن موسى، رجالى نقطہ نظر ميں سے مجہول الجال بن جاتے ہيں- [10]

محمد بن خالد الطياسى اور محمد بن اسماعيل بن بزيع کے بارے ميں آگے تفصيل سے روشنى ڈالى جائے گى-

عقبہ بن قيس کوفى:

وہ امام صادق (ع) کے صالح نامى صحابى کے باپ ہيں اور بظاہر اس کى توثيق اور تضعيف نہيں کى گئى ہے- [11]

مالک الجہنى:

چنانچہ دوسرے طريقہ ميں ذکر کيا گيا کہ امام سے نقل کرنے والے مالک الجہنى ہيں کہ اس سے مراد وہى مالک بن اعين الجہنى ہيں- وہ امام باقر (ع) کے صحابيوں ميں سے ہيں اور شيخ مفيد کے کہنے کے مطابق امام (ع) کى طرف سے ستائش شدہ تهے- [12]

نتيجہ يہ کہ ان افراد کى تحقيق کے بعد اگر ہم اس سند کے صحيح ہونے کا حکم نہ دے سکيں تو اس کے ضعيف ہونے کےبارے ميں بهى سو فيصدہ حکم نہيں ديا جاسکتا ہے کيونکہ بعض مبانى کى بنا پر اس سند ميں کوئى مشکل نہيں ہے-

1-2 شيخ طوسى کى کتاب مصباح المتہجد:

شيخ طوسى نے مذکورہ کتاب ميں زيارت عاشورا کو دوسندوں سے نقل کيا ہے-

1-2-1: شيخ طوسى کى پہلى سند:

وہ پہلى سند ميں کہتے ہيں

روى محمد بن إسماعیل بن بزیع عن صالح بن عقبه و سیف بن عمیره عن علقمه بن محمد الحضرمى «قلت لأبى جعفر: علمنى دعاءً أدعو به ذلك الیوم إذا أنا زُرته من قرب، و دعاءً ادعو به إذا لم أَزَره مِن قُرب و أَومات مِن بَعد البلاد، و من دارى بالسلام إلیه.  قال: فقال لى یا علقمه إذا أنت صلیت ركعتین-

علقمہ کہتے ہیں: ميں نے امام باقر (ع) کى خدمت ميں عرض کى: مجهے کسى ايسى دعا کى تعليم دیجیے کہ جس دن ميں امام حسين (ع) کى زيارت  کروں، اسے پڑهوں اور اگر نزديک سے حضرت (ع) کى زيارت نہ کرسکا، دور تر شہروں سے اپنے گهر کى چهت پر سے حضرت (ع) کى طرف اشارہ کرکے اس دعا کو پڑهوں- امام نے فرمايا: کہ وہ دو رکعتيں بجالايئں اس کے بعد حضرت (ع) کى طرف سلام کرکے اشارہ کريں، اشارہ کرنے کى حالت ميں تکبير کہيں اور اس زيارت کو پڑهيں، پهر تو آپ نے وہ دعا پڑهى جسے ملائکہ حضرت (ع) کى زيارت کرتے وقت پڑهتے ہيں۔۔۔ سلام ہو آپ پر اے ابا عبداللہ۔۔۔۔۔[13]

اس سند کے بارے ميں مندرجہ ذيل نکات پر تحقیق کرنا ضرورى ہے:

الف- شيخ طوسى کى سند، محمد بن اسماعيل بن بزيع تک:

شيخ طوسى نے روايت کو محمد بن اسماعيل بن بزيع کى کتاب سے نقل کيا ہے اور کتاب "الفہرست" ميں اپنى سند کو اس کتاب سے يوں نقل کيا ہے:

محمد بن إسماعیل بن بزیع؛ له كتاب فی الحج، أخبرنا به ابن أبی‏ جید عن محمد بن الحسن بن الولید عن علی بن إبراهیم عن أبیه عن محمد بن إسماعیل؛ ابن ابى جید، او از محمد بن الحسن بن الولید، او از على بن ابراهیم قمى، او از پدرش و او از محمد بن اسماعیل بن بزیع. [14]

پس حقيقت ميں روايت کى سند اس طرح ہوگى: شیخ طوسی، علی بن أحمد بن محمد بن أبی جید، محمد بن حسن بن ولید، علی بن ابراهیم قمی، ابراهیم، محمد بن اسماعیل بن بزیع.

اجمالى طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ تمام افراد جو اس سند ميں قرار پائے ہيں تمام علمائے رجال کى طرف سے قابل قبول ہيں- يہ تمام مشايخ ثقات ميں سے ہيں اور ان افراد کى وثاقت کو بيان کرنے کى ضرورت نہيں ہے-

ليکن پہلى سند کى تفصيلى تحقيق:

ابن ابى جيد:

وہ شيخ طوسى اور مرحوم نجاشى کے اساتيد ميں سے تهے اور مرحوم نجاشى کے مشايخ علماء کے اتفاق کے مطابق سب کے سب موثق ہيں اور ان کے بارے ميں تحقيق کرنے کى ضرورت نہيں ہے، چنانچہ مرحوم خوئى (رح) فرماتے ہيں: "شيخ کى سند صفارتک کتاب بصائر کے علاوہ صحيح ہے- بلکہ اس کتاب ميں بهى بنابر اظہر ايسا ہى ہے، کيونکہ اس  ميں ابن ابى جيد ہيں اور وہ ثقہ ہيں، کيونکہ وہ نجاشى کے مشايخ ميں سے ہيں- [15]

محمد بن حسن بن وليد:

وہ بلند پايہ شيعہ علماء ميں سے ہيں اور خود علمائے جرح و تعديل ميں شمار ہوتے ہيں اور توثيق و تعريف سے مستغنى ہيں- مرحوم نجاشى ان کى يوں ستائش کرتے ہيں: ابو جعفر بن حسن بن احمد بن وليد، اہل قم کے بزرگ اور قم کے مشہور دانشوروں ميں سے ہيں- وہ ہر لحاظ سے قابل و ثوق و اطمينان ہيں اور قابل فخر شخصيت تهے - [16]

على بن ابراہيم قمى:

وہ حديث ميں ثقہ، قابل اعتماد اور صحيح المذہب تهے - [17]

ابراہيم بن ہاشم:

وہ پہلے شخص ہيں، جنھوں نے قم ميں کوفيوں کى حديث کو نشر کيا اور ان کى چند تاليفات تهيں- [18] علامہ حلى کہتے ہيں کہ: ارجح وہ ہے کہ جس کا قول قابل قبول ہو- [19]

ب- محمد بن اسماعيل بن بزيع سے علقمہ بن محمد الحضرمى تک:

محمد بن اسماعيل بن مزيع:

انهوں نے دو افراد سے اور ان دوافراد نے علقمہ سے يہ روايت نقل کى ہے-

مرحوم نجاشى، محمد بن اسماعيل بن بزيع کے بارے ميں کہتے ہيں: وہ ايک ايسے خاندان ميں پيدا ہوئے ہيں کہ جن ميں سے حمزہ بن بزيع ہيں، وہ نيک نام شيعوں ميں سے تهے اور قابل اعتماد تهے اور کافى عامل تهے - [20] اس کے ضمن ميں اس روايت کو نقل کرتے ہيں: ميرے باپ نے مجھ سے کہا کہ محمد بن على بن حسين نےکہا ہے: محمد بن على ماجيلويہ نے مجهے ۔۔۔۔۔ سے روايت نقل کى اور کہا: ہم چند افراد امام رضا (ع) کے پاس بيٹهے تهے، بس محمد بن اسماعيل بزيع کا ذکر آيا، پس (امام نے) فرمايا: ميں چاہتا تها کہ آپ کے درميان اس جيسا کوئى ہو- [21]

شيخ طوسى بهى ان کے بارے ميں فرماتے ہيں: محمد بن اسماعيل بن بزيع، صحيح ثقہ، کوفى مولى المفصور -[22]

ليکن ان دو افراد، جن سے محمد بن اسماعيل نے نقل کيا ہے، يعنى صالح بن عقبہ و سيف بن عميرہ کے بارے ميں کہنا ہے کہ:

صالح بن عقبہ:

صالح بن عقبہ بن قيس، امام صادق (ع) کے اصحاب ميں سے ہيں- [23] نجاشى کہتے ہيں: صالح بن عقبہ بن قيس بن سمعان بن ابى ربيحہ مولى رسول اللہ (ص) ۔۔۔۔۔ [24]

مرحوم سيد بحرالعلوم جيسے بعض کہتے ہيں: چونکہ شيخ اور نجاشى نے ان کا اپنى کتاب ميں ذکر کيا ہے، اور ان کے مذہب کے بارے ميں گفتگو نہيں کى ہے، اس کى يہ دليل ہے کہ وہ امامى مذہب کے پيرو ہيں- [25]

اگرکوئى اس مبنا کو قبول کرے، تو صالح بن عقبہ بهى عام طور پر مرحوم نجاشى اور شيخ طوسى کى طرف سے ستائش شدہ ہيں اور کم از کم ان کا حسن (نيک) ہونا ثابت ہوگا- بہرحال ان کے بارے ميں اگرچہ خاص طور پر توثيق نہيں کى گئى ہے، ليکن ان کے ثقہ ہونے کو دوسرے طريقے سے ثابت کيا جاسکتا ہے اور وہ يہ ہے کہ:

اولا: محمد بن حسين بن ابى الخطاب (وفات 262 ہجرى) اور محمد بن اسماعيل بن بزيع جيسى شخصيتوں نے ان سے روايت نقل کى ہے اور يہ اس شخص کى وثاقت پر ايک مستحکم دليل ہے، کيونکہ محمد بن اسماعيل بن بزيع جيسا شخص، ممکن نہيں ہے کہ ايک ضعيف شخص سے روايت نقل کرے، باوجوديکہ آٹهويں امام (ع) نے ان کے بارے ميں فرمايا ہے: "وددت ان فيکم مثلہ" البتہ ابن غضائرى (وفات 411 ہجرى) صالح بن عقبہ کو ضعيف بتاتے ہيں: غال، کذاب، لايلتفت اللہ[26] اور علامہ نے بهى اپنى کتاب "مرجان" ميں اسے نقل کيا ہے- [27]

غضائرى کى يہ تنقيد، علمى لحاظ سے قدروقيمت نہيں رکهتى ہے کيونکہ وہ غالبا سماع کا پيرواور مشايخ سے نہيں تها، بلکہ دوسرے معياروں سے افراد کى تنقيد کرتا تها اور غالبا افراد کی، غلو کى وجہ سے سرزنش کرتا تها، ان دنوں، بعض افراد کو پيغمبر (ص) کےسہو کے نفى يا آپ (ص) کے ، خدا کى اجازت سے غيب سے آگاہ ہونے کے اعتقاد کى وجہ سے غالى شمار کيا جاتا تها، جبکہ اس قسم کے عقايد قرآن و سنت کے مطابق ہيں اور کسي کو اس اعتقاد کى وجہ سے غالی نہيں کہا جاسکتا ہے-

مرحوم آيت اللہ العظمى خوئى (رح) سختى کے ساتھ اس کى بات کو مسترد کرتے ہوئے فرماتے ہيں : ابن عضائرى سے منسوب تضعيف، على بن ابراہيم کى توثيق کے معارض نہيں ہوسکتى ہے، کيونکہ ہم نے ثابت کيا ہے کہ ابن غضائرى سے منسوب کتاب ثابت نہيں ہے- پس يہ شخص قابل اطمينان افرد ميں سے ہيں- [28]

ثانيا: شيخ طوسى اور نجاشى نے اپنى سند کو اس کى کتاب کى طرف حوالہ ديا ہے اور يہ بذات خود اس پر اعتماد کى ايک دليل ہے اس بنا پر کہا جاسکتا ہے : وہ ايک ستائش شدہ فرد تھے اور ان کى روايتں قابل قبول ہيں، اس بنا پر صالح بن عقبہ ايک معتبر راوى ہيں اور ان کى روايتوں پر اعتماد کيا جاسکتا ہے-

سيف بن عميرہ:

سيف بن عميرہ نخعى، کوفى، ثقہ ہيں، انهوں نے امام صادق (ع) اور امام کاظم (ع) سے روايتيں نقل کى ہيں اور نجاشى اور شيخ طوسى نے ان کى وثاقت کى تايئد کى ہے - [29]

اگر ہم فرض کريں کہ صالح بن عقبہ کى وثاقت ثابت نہيں ہے، تو روايت کے صحيح ہونے کو کوئى نقصان نہيں پہنچ سکتا ہے، کيونکہ محمد بن اسماعيل بن بزيع نے حديث کو ان دو افراد سے ہم کنار )باہم( نقل کيا ہے، اور ان ميں سے ايک کى وثاقت ثابت نہ ہونے سے روايت کو کوئى ضرر نہيں پہنچ سکتا ہے کيونکہ دوسرے راوى کی وثاقت ثابت ہے-

علقمہ بن محمد الحضرمى:

علقمہ، امام باقر (ع) و امام صادق (ع) کے صحابى ہيں، [30] اور علم رجال کى کتابوں ميں ان کى توثيق نہيں کى گئى ہے اور صرف مرحوم شيخ طوسى (رح) ان کے بارے ميں فرماتے ہيں: علقمہ بن محمد الحضرمى الکوفى، اسند عنہ [31] البتہ مرحوم سيد على بروجردى نے اسى نکتہ اور ايک اور دوسرى روايت، ميں ان کے حسن حال سے استفادہ کيا ہے- [32]

کچھ دوسرے قرائن ان کى وثاقت کو ثابت کرسکتے ہيں، مثلا، شيخ طوسى کى دوسرى سند کى تحقيق کے دوران ہميں معلوم ہوگا کہ سيف بن عميرہ ثقہ، صفوان بن مہران ثقہ کے ساتھ، زيارت امام حسين (ع) کى کيفيت  ميں اختلاف پيدا کرتے ہيں، اور سيف بن عميرہ، صفوان سے کہتے ہيں : يہ جو دعا زيارت کے بعد پڑهتے ہو، علقمہ نے جو روايت امام باقر (ع) سے نقل کى ہے، اس ميں موجود نہيں ہے- اور وہ جواب ميں کہتے ہيں: ميں نے اس دعا کو خود امام صادق (ع) سے سنا ہے، يہ گفتگو اس امر کى دليل ہے کہ يہ دونوں افراد علقمہ کى وثاقت پر اتفاق نظر رکهتے تهے اور اس لئے سيف بن عميرہ نے اس کے عمل سے استدلال کيا ہے اور صفوان بن مہران نے ان کے عمل سے انکار کئے بغير، امام صادق (ع) کى روايت سےاستدلال کيا ہے- [33]

بہ الفاظ ديگر، صفوان کى روايت ميں صراحت موجود ہے، کہ انہوں نے علقمہ کى نقل کى گئى زيارت عاشورا کى تايئد کى ہے ، صرف جو فرق پايا جاتا ہے، وہ زيارت کے بعد والى دعا کے بارے ميں ہے کہ علقمہ نے اسے نقل نہيں کيا ہے، ليکن صفوان نے خود اسے امام صادق (ع) سے نقل کيا ہے- اس کے علاوہ کشى نے اپنى کتاب "رجال" ميں اس کے اور اس کے بهائى (ابى بکر حضرمى) کى زيد بن على سے گفتگو کو نقل کيا ہے جس سےمعلوم ہوتا ہے کہ يہ دونوں بهائى امام صادق (ع) کى امامت کے بارے ميں ثابت قدم تهے[34]

يہاں تک واضح ہوا کہ يہ سند قابل اعتماد ہے- البتہ شيخ طوسى نے زيارت عاشورا کو حسب ذيل ايک اور سند سے بهى بيان کيا ہے:

1-2-2: شيخ طوسى کى دوسرى سند:

محمد بن خالد طيالسى، نے سيف بن عميرہ سے نقل کيا ہے کہ صفوان بن مہران جمال اور بعض اصحاب کے ساتھ نجف گئے – جب ہم زيارت سے فارغ ہوئے، تو صفوان نے اباعبداللہ (ع) [ يعنى کربلا] کى طرف رخ کيا اور ہم سے کہا: اس جگہ سے ( اميرالمومنين کے سر مبارک سے)  امام حسين (ع) کى زيارت کيجئے کہ امام صادق (ع) نے اس جگہ سے حضرت (ع) کى طرف اشارہ کيا ہے جب کہ ميں ان کے ساتھ تها-

سيف کہتے ہيں: پس صفوان نے اس زيارت کو پڑها، جسے علقمہ بن محمد حضرمى نے امام باقر (ع) سے روز عاشورا نقل کيا ہے، اس کےبعد سيف، صفوان بن مہران سے کہتے ہيں: جو دعا آپ نے پڑهى، وہ علقمہ کى امام صادق (ع) سےنقل کى گئى روايت ميں موجود نہيں ہے،انھوں نے جواب ميں کہا : کہ ميں نے اس دعا کو خود امام صادق (ع) سے سنا ہے - [35]

اس عبارت کا ظاہر يہ ہے کہ امام صادق (ع) نے امام حسين (ع) کے مرقد کى طرف اسى زيارت کے ساتھ اشارہ کيا، جسے علقمہ نے امام باقر (ع) سے نقل کيا تها اور اسى زيارت سے حضرت (ع) کى طرف خطاب کيا-

اس سند کے بارے ميں کہنا چاہئے کہ سيف بن عميرہ و صفوان بن مہران [36] کى وثاقت کےبارے ميں کوئى مشکل نہيں ہے اور صرف دو مسائل کے بارے ميں بحث کى جانى چاہئے : ايک سند کے سلسلہ ( شيخ طوسى سے) محمد بن خالد طيالسى تک اور دوسرا خود محمد بن خالد کى وثاقت کے بارے ميں-

الف: شيخ طوسى کى سند ، محمد بن خالد طیالسى تک:

راويوں کے اعتبار اور وثاقت کو ثابت کرنے کے سلسلہ مين اس روايت کے محمد بن خالد طيالسى تک دوصورتيں ہيں: پہلى صورت: ظاہر عبارت "محمد بن خالد نے روايت کى ہے" (روى محمد بن خالد) اس کے مقابلے ميں محمد بن خالد سے نقل کيا گيا ہے" (روى من محمد بن خالد)، روايت کے محمد بن خالد طيالسى سے نسبت دينے کا صحيح ہونا، شيخ طوسى کے ہاں ثابت ہے اور يہ مسئلہ روايت کى سند کےاعتبار کے لئے اس جہت سےکافى ہے-

دوسرى صورت: ظاہر يہ ہے کہ مذکورہ حديث محمد بن خالد طيالسى کى کتاب سے ہے- شيخ طوسى نے ايک کتاب کى فہرست ميں محمد بن خالد سے نسبت دى ہے اور اس کتاب کو حسين بن عبيداللہ غضائرى کے طريقہ سے احمد بن محمد بن يحيى عطار سے اور انھوں نے اپنے باپ سے اور انھوں نے محمد بن على بن محبوب سے اور انھوں نے محمد بن خالد طيالسى سے روايت کى ہے - [37] يہ سب حضرات بزرگ شخصيتيں اور معتمدين اماميہ ہيں، يعنى ان کى کتاب کے بارے ميں شيخ طوسى کى سند صحيح ہے- پهر بهى ہم ان افراد کے بارے ميں تحقيق کرتے ہيں:

حسين بن عبيداللہ غضائرى:

وہ مرحوم شيخ طوسى [38] اور نجاشى [39] کے مشايخ ميں سے تهے- اور ہم نے پہلے کہا ہے کہ مرحوم نجاشى کے اساتيد اور شيوخ بالاتفاق ثقہ ہيں اور ان کے لئے توثيق کى ضرورت نہيں ہے، چنانچہ مرحوم خوئى (رح) نے فرمايا ہے: "وہ نجاشى کے استاد ہيں اور نجاشى کے تمام اساتذہ موثق ہيں - [40]

احمد بن محمد بن يحيى:

ان کى وثاقت ثابت کرنے کے لئے، مندرجہ ذيل تايئدات سے استناد کيا جاسکتا ہے:

اولا: وہ مرحوم شيخ صدوق (رح) کے مشايخ ميں سے ہيں اور شيخ صدوق نے ان سے بہت سى روايتيں نقل کى ہيں اور ان کے نام کے ساتھ من جملہ "رضى اللہ عنہ" استعمال کيا ہے کہ اس سے ہم ان کى وثاقت کے بارے ميں اطمينان حاصل کرسکتے ہيں:

ثانيا وہ صاحب اجازہ مشايخ اور بہت سے علمائے علم رجال تمام صاحب اجازہ مشايخ کو موثوق جانتے ہيں، چنانچہ محقق بحرانى اس سلسلہ ميں فرماتے ہيں: صاحب اجازہ مشايخ اطمينان و عظمت والے مقام کے بالاترين مرتبہ پر ہوتے ہيں: [41] وہ لکهتے ہيں: "صاحب اجازہ مشايخ کى عدالت پر شک نہيں کرنا چاہئے- [42]

ثالثا: بہت سے علماء نے ان کى روايت کو صحيح جانا ہے اور ان کى توثيق کى ہے، من جملہ مرحوم علامہ مجلسى لکهتے ہيں: احمد بن محمد عطار، صاحب اجازہ مشايخ ميں سے ہيں اور علماء نے ان کى روايت کو صحيح جانا ہے، شيخ نے ان سے ابن عضائرى وابن ابى جيد کے واسطہ سے روايت نقل کى ہے- [43]

اس طرح علامہ حلى اپنى کتاب "خلاصۃ الاقوال" کے باب ہشتم ميں، شيخ صدوق کے طريقہ، عبدالرحمن بن بى نجران و عبداللہ بن ابى يعقوب کى تصحيح کى ہے، جبکہ دونوں طريقوں ميں احمد بن محمد يحيى عطار موجود ہيں اس مطلب سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کى وثاقت علامہ حلى کى نظر ميں ثابت تهى - [44]

اس تفصيل کے پيش نظر، ان کى وثاقت کے بارے ميں کوئى شک و شبہہ باقى نہيں رہتا ہے-

محمد بن يحيى العطار:

وہ مرحوم شيخ کلينى کے استاد ہيں، کہ شيخ کلينى نے ان سے بہت سى روايتيں نقل کى ہيں- مرحوم نجاشى ان کے بارے ميں فرماتے ہيں: محمد بن یحیى أبو جعفر العطار القمی، شیخ أصحابنا فی زمانه، ثقة، عین، كثیر الحدیث. [45]و شیخ طوسی ‌فرماتے ہيں: محمد بن یحیى العطار، روى عنه الكلینی، قمی، كثیر الروایة .[46]

محمد بن على بن محبوب:

مرحوم نجاشى ان کى تعريف ميں  لکهتے ہيں: محمد بن على بن محبوب الاشعرى القمى ابوجعفر، شيخ القميس فى زمانہ، ثقہ، عين، فقيہ، صحيح المذاہب [47]

ب- محمد بن خالد طيالسى کى وثاقت:

محمد بن خالد طيالسى کى وثاقت ثابت کرنے کے لئے درج ذيل نکات کى طرف اشارہ کيا جاتا ہے:

اول: محمد بن على محبوب (جو شيعوں کى ايک معروف شخصيت ہيں) کى روايت، جو انهوں نے محمد بن خالد سے لکهى ہے اور يہ طيالسى پر ان کے اعتماد کى دليل ہے-

دوم: طيالسى کا مکتب اصحاب (اصول) کے ثقات (معتمديں) کے سلسلہ ميں قرار پانا-

اصحاب اصول ميں سے سيف بن عميرہ و محمدبن معروف کا نام ليا جاسکتا ہے، کہ کتاب نے ان دو کو، محمد بن جعفر رزاز۔۔۔۔۔۔۔۔ جو مشايخ معتمد شيعہ ہيں ۔۔۔۔۔۔۔۔ نے محمد بن خالد طيالسى سے نقل کيا ہے اور يہ رزاز کے طيالسى پر اعتماد کى دليل ہے-

اصول ميں سے ايک اور اصل رزيق بن زبير ہے کہ عبداللہ بن جعفر حميرى نے محمد بن خالد طيالسى سے نقل کيا ہے- اس طرح حميد بن زياد، کہ شيخ طوسى اور نجاشى نے ان کے واقفى ہونے کے باوجود ان کى توثيق کى ہے، محمد بن خالد طيالسى نے اصول سے بہت سى روايتيں نقل کى ہيں-

سوم: يہ کہ مذکورہ افراد کے علاوہ بہت سےثقات نےان سے روايت نقل کى ہے اور ان پر اعتماد کيا ہے، جيسے : سعد بن عبداللہ، سلمۃ بن خطاب کہ ان کى وثاقت بهى ثابت ہوئى ہے، طيالسى کے بيٹے ( عبداللہ بن محمد بن خالد) على بن ابراہيم، على بن سليمان الزرارى، محمد بن حسن صفار، محمد بن حسين (وہى محمد بن حسين ابى الخطاب) اور معاويہ بن حکيم- [48]

چہارم: شيخ طوسى ان کے بارے ميں لکهتے ہيں: محمد بن خالد الطيالسى، يکنى اباعبداللہ، روى عنہ حميد اصولا کثيرۃ- [49]

ظاہر ہے کہ ان کے بارے ميں يہ جملہ، ايک عظيم اور جليل ستائش ہے کہ کم از کم ان کے حسن ہونے کوثابت کرتا ہے-

مذکورہ مسائل، محمد بن خالد طيالسى کى وثاقت کے قوى ترين دلائل ہيں اور ان کے بارے ميں کوئى مذمت نہيں ہوئى ہے، اور حتى کہ ابن غضائر کى طرف سے بهى ان کے بارے ميں کوئى مذمت نہيں ہوئى ہے، جبکہ ابن غضائر نے غلطى سے بہت سے ثقات کى مذمت کى ہے- پس محمد بن خالد طيالسى کى وثاقت کے بارے ميں کوئى مشکل نہيں ہے- اس بنا پر معلوم ہوا کہ يہ طريقہ بهى زيارت عاشوررا کے لئے صحيح ہے-

يہاں تک زيارت عاشورا کے بارے ميں شيخ طوسى کى دوسندوں پر تحقيق اور بحث کى گئى اور ہم اس نتيجہ پر پہنچ گئے کہ شيخ کى پہلى سند مکمل طور پر صحيح ہے اور علقمہ بن محمد حضرمى کى وثاقت پر شک و شبہہ نہيں کرنا چاہئے- ليکن دوسرى سند کے راوى محمد بن خالد طيالسى کے علاوہ سب ثقات ميں سے تهے اور کہا جاسکتا ہے کہ طيالسى بهى قابل قبول راويوں ميں سے ہيں: کيونکہ بڑے مشايخ نے ان سے روايت نقل کى ہے- [50]

مذکورہ بيان سےواضح ہوا ہو کہ مرحوم شيخ طوسى نے مجموعا دوسنديں ذکر کى ہيں اور ان دونوں سندوں ميں ہر طبقہ ميں ايک سےزيادہ افراد موجود ہيں:

طبقہ اول: علقمہ بن محمد الخضرمى وصفوان بن مہران الجمال

طبقہ دوم: سيف بن عميرہ و صالح بن عقبہ

طبقہ سوم: محمد بن اسماعيل بن بزيع و محمد بن خالدالطيالسى

حتى کہ اگر طبقہ اول ميں علقمہ کى وثاقت ثابت نہ ہو، تو اس طبقہ ميں صفوان کے ہوتے ہوئے روايت کى سند صحيح ہوگى اور طبقہ دوم ميں اگر صالح بن عقبہ کى وثاقت ثابت نہ ہوجائے، تو سيف بن عميرہ کے ہوتے ہوئے اس کى تلافى ہوتى ہے اور اس طرح طبقہ سوم ميں اگر بالفرض محمد بن خالد مجہول بهى ہوں، تو محمد بن اسماعيل بن بزيع کے ہوتے ہوئے روايت کى سند صحيح ہے اور کسى قسم کى مشکل نہيں ہے - [51]

زيارت عاشورا کا متن:

بعض لوگوں نے زيارت عاشورا کے محتوى پر شک و شبہہ کيا ہے اور اس سلسلہ ميں بعض اشکالات پيش کئے ہيں- ان اشکالات و اعتراضات کا ہمارى اسى سائٹ پر جواب ديا گيا ہے- اس سلسلہ ميں مزيد آگاہى حاصل کرنے کے لئے ملاحظہ ہو:

عنوان: "لعن ہمہ بنى اميہ"، سوال: 854 (سائٹ: 928)

عنوان: "لعنت فرزند يزيد در زيارت عاشورا" (سائٹ: 10087)

 


[1]   ابن قولويه، جعفر بن محمد، كامل الزيارات، ص 325 – 328، يك جلد، انتشارات مرتضويه نجف اشرف، 1356 هجرى قمری.

[2]  وقد علمنا انا لا نحيط بجميع ما روي عنهم في هذا المعنى ولا في غيره، لكن ما وقع لنا من جهة الثقات من أصحابنا رحمهم الله برحمته ، ولا أخرجت فيه حديثا روي عن الشذاذ من الرجال، يؤثر ذلك عنهم عن المذكورين غير المعروفين بالرواية المشهورين بالحديث والعلم . كامل الزيارات، ص 37.

[3]  وكذلك جعفر بن محمد بن قولويه فإنه صرح بما هو أبلغ من ذلك في أول مزاره. وسائل الشيعة (آل البيت) ، الحر العاملي، ج 30 ، ص 202، الفائدة السادسة من خاتمة كتاب الوسائل

[4]  حول أسانيد "كامل الزيارات" لابن قولويه، (على كل حال، فإن في المراجع و المجتهدين الحاليين من يرى وثاقة جميع الرواة في "الكامل" و منهم – مثل الأستاذ في الحوزة العلمية الشيخ جعفر السبحاني - من يقوي كلام المحدث النوري و يراه هو الصحيح و بالتالي لا يرى وثاقة أحد من رواة الكامل إلا الراوي الأول في كل سند).

[5]  اما بالنسبة الى من ورد في أسانيد كامل الزيارات فقد رأينا أخيرا اختصاص التوثيق بخصوص المشايخ المروي عنهم بلا واسطة، و عليه فلم تثبت وثاقة الجوهري أيضا، و أما التمييز في الروايات المشتركة باشتراك الراوي و المروي عنه- على تقدير وثاقة الجوهري- فهو منتف طبعا فتسقط الرواية عن الاعتبار. صراط النجاة (للخوئي مع حواشي التبريزي)، ج‏2، ص 457

[6]  فإنك ترى أن هذه العبارة واضحة الدلالة على أنه لا يروي في كتابه رواية عن المعصوم إلا وقد وصلت إليه من جهة الثقات من أصحابنا رحمهم الله. معجم رجال الحديث، ج 1، ص 50

[7]  شیخ طوسی، التهذيب: ج 6، ص 41. معجم رجال الحديث، ج2، ص186

[8]  خاتمه مستدرک الوسائل، ج3، ص 251-256، موسسه آل البیت قم، طبع اول، 1416 ه .

[9]  ملاحظہ ہو: معجم‏رجال‏الحديث، ج 15،  ص  207 ؛ رجال‏النجاشي، ص  348؛ فهرست‏الطوسي، ص 174 و  410.

[10]  معجم‏رجال‏الحديث، ج 17، ص  283. البتہ جس طرح بيان کيا گيا کہ علم رجال کے اس عالم بزرگ کا يہ نظريہ ابتدائى تها ليکن اس سلسلہ ميں اس کے آخرى نظريہ کے مطابق ابن قولويہ کے پہلے واسطہ کى توثيق ہوتى ہے، محمد بن موسى الہمدانى کى ابن قولويہ کے مطابق توثيق نہيں کى جاسکتى ہے بلکہ بنيادى طور پر تعارض کى نوبت ہى نہيں‏ پہنچتى ہے-

[11]  معجم رجال الحديث، ج11، ص156.

[12]  ملاحظہ ہو: معجم‏رجال‏الحديث، ج 14،  ص  156-158؛ فرهنگ کوثر - شماره 72؛ ماخذ شناسی زیارت عاشورا، مهدي سلطاني رناني.

[13]  شيخ طوسى، مصباح المتهجد، ص 772، يك جلد، مؤسسه فقه الشيعه بيروت، 1411 هجرى

[14]  الفهرست‏ للطوسي، ص 140، شماره 594. دوسرى جگہ پر وہ اس کتاب سے ايک دوسرى سند بهى ذکر کرتا ہے: محمد بن إسماعيل بن بزيع؛ له كتب منها كتاب الحج، أخبرنا به الحسين بن عبيد الله عن الحسن بن حمزة العلوي عن علي بن إبراهيم عن أبيه عنه و أخبرنا به ابن أبي جيد عن محمد بن الحسن عن سعد، و الحميري، و أحمد بن إدريس و محمد بن يحيى عن أحمد بن محمد، و محمد بن الحسين عنه. الفهرست‏للطوسي ص : 155، شماره 691.

[15]  طريق الشيخ إليه [ صفار] صحيح في غير كتاب بصائر الدرجات، بل فيه أيضا على الأظهر ، فإن في طريقه ابن أبي جيد ، فإنه ثقة ، لأنه من مشايخ النجاشي. معجم‏رجال‏الحديث، ج 15، ص 250، نرم افزار داریۀ النور

[16]  محمد بن الحسن بن أحمد بن الوليد أبو جعفر شيخ القميين ، وفقيههم ، ومتقدمهم ، ووجههم . ويقال : إنه نزيل قم، وما كان أصله منها . ثقة ثقة، عين، مسكون إليه؛ رجال النجاشي، ص 383، نرم افزار داریۀ النور.

[17]  نجاشی کہتے ہيں: ثقة في الحديث ثبت معتمد صحيح المذهب سمع فأكثر (و أكثر) و صنف كتبا و أضر في وسط عمره. و له كتاب التفسير رجال‏النجاشي، ص 260؛ رجال ‏ابن‏داود، ص  237 و الخلاصة حلي، ص  100 ميں بهى يہى تعبير آئى ہے- سافٹ وير داريتہ النور.

[18]  رجال‏النجاشي، ص 16؛ فهرست‏ الطوسي، ص 12.

[19]  و لم أقف لأحد من أصحابنا على قول في القدح فيه و لا على تعديله بالتنصيص و الروايات عنه كثيرة و الأرجح قبول قوله. الخلاصة للحلي، ص 5.

[20]  محمد بن إسماعيل بن بزيع أبو جعفر مولى المنصور أبي جعفر، وولد بزيع بيت، منهم حمزة بن بزيع . كان من صالحي هذه الطائفة وثقاتهم، كثير العمل؛ محمد بن اسماعيل ... .

[21]  أخبرنا والدي رحمه الله قال: أخبرنا محمد بن علي بن الحسين قال : حدثنا محمد بن علي ما جيلويه ، عن علي بن إبراهيم، عن أبيه ، عن علي بن معبد ، عن الحسين بن خالد الصيرفي . قال : كنا عند الرضا عليه السلام، ونحن جماعة ، فذكر محمد بن إسماعيل بن بزيع ، فقال : " وددت أن فيكم مثله "؛ رجال النجاشي، النجاشي ، ص 330 – 332 .

[22]  رجال الطوسي، الشيخ الطوسي ، ص 364 .

[23]  رجال شيخ طوسى: باب اصحاب امام صادق (ع )، ص 138.

[24]  رجال نجاشى، ص 200.

[25]  کيونکہ شيخ طوسى نے "فہرست" ميں اور نجاشى نے اپنى کتاب "رجال" ميں يہ بنا رکهى ہے کہ ان راويوں کو نقل کريں جو امامى ہوں اور اگر غير شیعہ ہوں تو ضرور ذکر تے ہيں- پس جس راوى کو ان دو حضرات مطلق طور پر لائے ہیں ان کے شيعہ ہونے کى دلالت ہے اور اس طرح ان کى عام طور پر ستا ئش کى گئى ہے- وہ اپنى کتاب فوائد الرجاليہ ميں فائدہ دہم ميں فرماتے ہيں:

فائدة الظاهر أن جميع من ذكر الشيخ في (الفهرست) من الشيعة الإمامية إلا من نص فيه على خلاف ذلك من الرجال : الزيدية ، والفطحية ، والواقفية وغيرهم، كما يدل عليه وضع هذا الكتاب ، فإنه في فهرست كتب الأصحاب ومصنفاتهم ، دون غيرهم من الفرق.

وكذا ( كتاب النجاشي ) . فكل من ذكر له ترجمة في الكتابين، فهو صحيح المذهب ممدوح بمدح عام يقتضيه الوضع لذكر المصنفين العلماء والاعتناء بشأنهم وشان كتبهم ، وذكر الطريق إليهم ، وذكر من روى عنهم ومن رووا عنه.

ومن هذا يعلم أن إطلاق الجهالة على المذكورين في ( الفهرست ) و ( رجال النجاشي ) من دون توثيق أو مدح خاص، ليس على ما ينبغي .

السيد بحر العلوم، الفوائد الرجالي ، ج 4، ص111،  116.

[26]  ابن‏الغضائري، ج 1، ص 69.

[27]  الخلاصه، ص  230.

[28]  أقول: لا يعارض التضعيف المنسوب إلى ابن الغضائري ، توثيق علي بن إبراهيم ، لما عرفت غير مرة من أن نسبة الكتاب إلى ابن الغضائري لم تثبت ، فالرجل من الثقات . معجم رجال الحديث ، السيد الخوئي ، ج 10 ، ص 85 – 86.

[29]  سيف بن عميرة ، ثقة ، كوفي نخعي عربي . له كتاب... الفهرست ، الشيخ الطوسي ، ص 140 ؛ سيف بن عميرة النخعي عربي ، كوفي ، ثقة ، روى عن أبي عبد الله وأبي الحسن عليهما السلام . له كتاب يرويه جماعات من أصحابنا، رجال النجاشي ، النجاشي ، ص 189.

[30]  رجال‏الطوسي، ص 140 و 262.

[31]  رجال الطوسي، الشيخ الطوسي، ص 262.

[32]  وی مي‌گويد: علقمة بن محمد الحضرمي الكوفي، أسند عنه "ق" وهو أخو أبي بكر الحضرمي كما في " قر " وكان علقمة أكبر من أخيه كما في حديث بكار عن أبيه عبد الله وعمه علقمة ، وحكى فيه مناظرة أبيه مع زيد، وفيه اشعار على حسنه وكونه اماميا ثابت الاعتقاد. طرائف المقال، السيد علي البروجردي، ج 1 ، ص 527.

[33]  مصباح المتهجد، ص 777، 781.

[34]  رجال كشى، ص 416 و 417، سافٹ وير: داریۀ النور.

[35]  وروى محمد بن خالد الطيالسي عن سيف بن عميرة قال : خرجت مع صفوان بن مهران الجمال وعندنا جماعة من أصحابنا إلى الغري بعد ما خرج أبو عبد الله عليه السلام فسرنا من الحيرة إلى المدينة فلما فرغنا من الزيارة صرف صفوان وجهه إلى ناحية أبي عبد الله الحسين عليه السلام فقال...  مصباح‏المتهجد، ص 777.

[36]  صفوان بن مہران امام صادق (ع) اور امام کاظم (ع) کے صحابى تهے رجال‏النجاشي، ص  198.

[37]  محمد بن خالد الطيالسي. له كتاب. رويناه عن الحسين بن عبيد الله عن أحمد بن محمد بن يحيى عن أبيه عن محمد بن علي بن محبوب عن محمد بن خالد. فهرست‏الطوسي، ص 421، شماره 649.

[38]  مرحوم شيخ طوسي بهى فرماتے ہيں: الحسين بن عبيد الله الغضائري، يكنى أبا عبد الله، كثير السماع ، عارف بالرجال ، وله تصانيف ذكرناها في الفهرست ، سمعنا منه وأجاز لنا بجميع رواياته ، مات سنة أحدي عشره وأربعمائة. رجال الطوسي، الشيخ الطوسي، ص 425.

[39]  مرحوم نجاشي فرماتے ہيں: الحسين بن عبيد الله بن إبراهيم الغضائري أبو عبد الله، شيخنا رحمه الله. رجال النجاشي، النجاشي، ص 69.

[40]  أنه شيخ النجاشي وجميع مشايخه ثقات . معجم رجال الحديث، السيد الخوئي، ج 7 ، ص 23.

[41]  مشايخ الإجازة في أعلى طبقات الوثاقة والجلالة . معراج أهل الكمال، ص 44.

[42]  إنّه لا ينبغي أن يرتاب في عدالة شيوخ الإجازة. معراج أهل الكمال، ص 88 . مزيد آگاہى کے لئے ملاحظہ ہو: الفوائد الرجاليّة، ص 44، المطبوع في آخر رجال الخاقاني؛ الشهيد الثاني، ص 192 – 193؛ ميرداماد محمد باقر الحسيني الأستر آبادي، ص 261.

[43]  احمد بن محمد بن يحيي العطار، من مشايخ الإجازة، و حكم الأصحاب بصحة حديثه، يروي عنه الشيخ بتوسط ابن الغضائري و ابن أبي جيد. الوجيزه في علم الرجال، ص154

[44]  مزيد آگاہي کے لئے ملاحظہ ہو: الرعاية في علم الدراية (حديث)، الشهيد الثاني، ص 371؛ ميرداماد محمد باقر الحسيني الأستر آبادي، ص 171 – 172؛ البهائي العاملي، ص 276.

[45]  رجال النجاشي، النجاشي، ص 353.

[46]  رجال الطوسي، الشيخ الطوسي، ص 439.

[47]  رجال النجاشي، النجاشي ، ص 349

[48]  معجم رجال الحديث، ج 17، ص76.

[49]  رجال الطوسي، الشيخ الطوسي، ص 441.

[50]  مذيد آگاہى کے لئے ملاحظہ ہو: آذرخشى ديگر از آسمان كربلا، محمدتقى مصباح یزدی.

[51]  مذيد آگاہى کے لئے ملاحظہ ہو:  پاسخ به سوالاتي در خصوص زيارت عاشورا.

اسلام کوئسٹ ڈاٹ نٹ 

 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved