• تاریخ: 2012 جنوری 01

ایک انسان کیسے خواب کی تعبیر بیان کرنے کی طاقت پیدا کرسکتا ھے؟


           
سوال :
ایک انسان کیسے خواب کی تعبیر بیان کرنے کی طاقت پیدا کرسکتا ھے؟ کیا اس سلسلہ میں کوئی حدیث پائی جاتی ھے؟

اجمالی جواب :

سپنے اور خواب دیکھنا ایک ایسا امر ھے جو سب لوگوں کے لئے پوری زندگی میں پیش آتا ھے۔ ابھی تک دانشوروں کے لئے خوابوں کی کیفیت بخوبی واضح نھیں ھوسکی ھے۔ قرآن مجید میں حضرت یوسف[ع] کا ذکر کیا گیا ھے، جنھوں نے سچے خواب بھی دیکھے[1] اور خداوند متعال نے ان کی تعبیر کا علم بھی انھیں عطا کیا[2]۔

حضرت یوسف[ع] نے زندان میں اپنے زندانی ساتھیوں اور زندان سے باہر مصر کے بادشاہ کے خوابوں کی تعبیر و تاویل بیان کی ھے۔ پس خواب کی تعبیر اور بقول قرآن مجید " خواب کی تاویل[3]" ایک حقیقت اور علم ھے کہ خداوند متعال نے اس پیغمبر خدا کو سکھایا تھا۔ حضرت دانیال نبی[ع] بھی ان افراد میں سے تھے کہ خداوند متعال نے انھیں خواب کی تعبیر کا علم عطا کیا تھا[4]۔ قرآن مجید نے کئی دوسرے انبیائے الہی کا نام بھی لیا ھے کہ خداوند متعال نے ان کے خواب صحیح ھونے کی تائید فرمائی ھے[5]۔

خوابوں کی تقسیم بندی کے سلسلہ میں روایتیں دوقسم کی ھیں:

بعض خواب، سچے ھوتے ھیں اور بعض جھوٹے[6]۔جو خواب سچے ھوں، انھیں روایات میں نبوت کے سترحصوں [7]میں سے ایک حصہ کے عنوان سے یاد کیا گیا ھے۔ یہ علم پڑھنے سے حاصل نھیں ھوتا ھے بلکہ اس کے لئے تزکیہ و تطہیر کی ضرورت ھوتی ھے اور خاص حالات میں کسی شخص کو عطا کیا جاتا ھے اور اسی لئے بھت کم لوگ اس نعمت سے مستفید ھوتے ھیں۔

البتہ، بعض کتابوں میں تعبیر خواب کے بارے میں کچھ معیار اور قاعدے نقل کئے گئے ھیں ضروری ھے کہ ان کی طرف توجہ کی جائے کہ یہ معیار کلی اور مطلق نھیں ھیں بلکہ خواب دیکھنے والے شخص کے حالات کے پیش نظر ان میں تبدیلی آتی ھے اور اس بنا پر جو کچھ ان کتابوں میں درج کیا گیا ھے ان سے سو فیصدی نتیجہ حاصل نھیں کیا جاسکتا ھے۔ خدا آپ کو توفیق عطا کرے۔



[1] يوسف، 4.

[2] یوسف،101.

[3] یوسف،101

[4] مجلسی، بحارالانوار، ج14، ص 371.

[5] صافات، 105؛ فتح، 27.

[6] کلینی، کافی، ج8، ص 91، دارالکتب الاسلامیه.

[7]صدوق، من لا یحضره الفقیه، ج2، ص 584.

اسلام کوئسٹ ڈاٹ نٹ 


Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved