لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2011 جولائی 28

حكومت كي ضرورت


           

باب اوّل: جمہوريت

 

حكومت كي ضرورت

 

كسي بھي معاشري ميں نظم و ضبط كے لئے ايك (حكومتي) ڈھانچے كي شديد ضرورت ہے جو زندگي كے مختلف شعبوں ميں ہم آہنگي ايجاد كرے اور قومي امور كي باگ ڈور سنبھالے تاكہ طرح طرح معاشرتي مسائل، ضروريات كو پورا كرنے كے وسائل كے درميان ہماہنگي قائم رہے، اور مفيد و كار آمد قوتوں كو جمع كركے انھيں صحيح رخ پر لگائے تاكہ وہ اپني توانائياں معاشري كے مصالح و مفادات كے حصول كي راہ ميں استعمال كر سكيں اسي طرح عدل وانصاف كي بر قراري اور دوسروں كے حقوق پر ڈاكہ ڈالنے والے ظالم و جابر افراد سے مقابلہ اس كاايك اہم كام ہے اس كے ساتھ ہي ساتھ ايك معاشرہ كو اس لئے بھي كسي (حكومتي) ڈھانچے كي ضرورت ہے كہ جب ايك مضبوط، مؤثر اور قدرتمند اجتماعى موقف كي ضرورت پيش آئے وہاں يہ (حكومتي) ڈھانچہ مختلف آراء وافكار ميں ہماہنگي ايجاد كركے ايك مؤثر اور قوي و مفيد موقف اختيار كر سكے ايسا موقف جو فيصلہ كن حقائق پر مبني اور قابل اثر ہو، اس كے علاوہ اور بھي ديگر امور ہيں جو ايك معاشرہ ميں حكومت كي شديد ضرورت كو نماياں كرتے ہيں اور كسي كے لئے شك و شبہ كي گنجائش باقي نہيں رہتي۔

جب ايك مختصر سے خاندان كو (جو عظيم معاشري كي ہي ايك بنيادي اكائي ہے) ايك ايسے سر پرست كي ضرورت ہوتي ہے جو خاندان كے تمام امور كي نگراني كر ے، مختلف افراد كے فرائض اور ان كے امور ميں ہماہنگي ايجاد كر سكے تو اس عظيم معاشري كے لئے جو مختلف سماجي اكائيوں، اور مختلف احساسات و جذبات اور مختلف افكار وخواہشات كے حامل گروہوں اور سياسي جماعتوں سے تشكيل پاتا ہے بدرجہ اولي ايك (حكومتي) ڈھانچے كي ضرورتي آشكار ہوجاتي ہے۔

 ماخوذ از کتاب " اسا س الحکومۃ الاسلامیہ " مؤلّف : آیۃ اللہ سید کاظم حائری ، مترجم : انیس الحسنین

 
Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved