لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 مئی 14

ھجرت كے بعد كے حالات اور پيغمبر (ص) كي حمايت ميں انصار كا كردار


           
2۔ ھجرت كے بعد كے حالات اور پيغمبر (ص) كي حمايت ميں انصار كا كردار

آخركار پيغمبر اسلام (ص) نے مدينہ كي طرف ھجرت كي اور اھل مدينہ نے پيغمبر (ص) اور دوسرے تمام مھاجرين كا شاندار استقبال كيا اور پيغمبر اسلام (ص) اور دين خدا كي خاطر ان كے سخت ترين كينہ پرور دشمنون يعني مشركين مكہ كے سامنے سينہ سپر ھوگئے اور سچ بات تو يہ ھے كہ اس سلسلے ميں كسي بھي قسم كي كوشش اور قرباني سے دريغ نہ كيا، قرآن نے سورۂ حشر 65 ميں ان كے ايثار و فداكاري كي طرف اشارہ كرتے ھوئے ان كي مدح سرائي كي ھے۔
مختصر يہ كہ انصار پيغمبر اسلام (ص) كي حمايت اور دين اسلام كي بقاء و ترقي كي خاطر مشركين قريش سے نبرد آزما ھونے اور اپنے آپ كو سخت ترين جنگوں ميں مشغول ركھنے پر آمادہ ھوگئے، انھوں نے جو پھلي جنگ مشركين قريش سے لڑي وہ جنگ بدر تھي جس ميں مسلمانوں كي تعداد بہت زيادہ نہ تھى، اس كے باوجود مشركين قريش كے ستر افراد كو قتل كرديا جن ميں اكثر سردار قريش تھے 66 اورمسلمانوں كے كل چودہ افراد شھادت كے درجہ پر فائز ھوئے جن ميں آٹھ افراد كا تعلق انصار سے تھا 67۔
ابھي جنگ بدر كو ختم ھوئے كچھ وقت نہ گزرا تھا كہ جنگ احد واقع ھوگئي اور اس ميں بھي مسلمان، مشركين كے تيئيس افراد ھلاك كرنے ميں كامياب ھوگئے ليكن بعض مسلمانوں كي تساھلي كي وجہ سے جنھيں عينين نامي پھاڑي پرجمے رھنے كو كھا گيا تھا مسلمانوں كے تقريباً ستر افراد شھيد ھوگئے 68۔ معمولاً دو بڑي جنگوں كے درميان كچھ سريہ اور غزوات بھي يكے بعد ديگرے وقوع پذير ھوتے رھتے تھے۔
ھجرت كے پانچويں 69 سال تمام دشمنان اسلام متحد ھوگئے اور اسلام كو جڑ سے ختم كرنے كے لئے دس ھزار كے لشكر كے ساتھ مدينہ كا اس طرح محاصرہ كيا كہ پورے مدينہ ميں خوف وھراس پھيل گيا، تاريخ ميں اس جنگ كو جنگ خندق يا جنگ احزاب كے نام سے ياد كيا جاتا ھے۔
ليكن مولا علي عليہ السلام كي شجاعت و بھادري اور آپ كي وہ تاريخي ضربت جو آپ نے عمر و بن عبدود (جو عرب كا ايك نامور پھلوان تھا) كے سر پر لگائي تھي اس نے اس جنگ كو مسلمانوں كے حق ميں كرديا اور پھر شديد بارش اور طوفان كي وجہ سے مشركين نھايت خوف زدہ ھوگئے اور انھوں نے مدينہ كا محاصرہ ختم كرديا 70، مجموعي طور پر پيغمبر اسلام (ص) نے مدينہ ھجرت كے بعد دس سال كے عرصہ ميں چوھتر جنگوں كا سامنا كيا جن ميں سريہ اور غزوات بھي شامل تھے 71 ان تمام جنگوں ميں انصار نے اھم كردار ادا كيا يھاں يہ كھنا غلط نہ ھوگا كہ اسلام نے انصار كي مدد كي وجہ سے كافي ترقي كي اور اسي نصرت و مدد كي وجہ سے پيغمبر اسلام (ص) نے انھيں انصار كے نام سے ياد كيا۔
مسلمانوں كي تعداد ميں روز بروز اضافہ ھورھا تھا اور اس دوران بعض لوگ اسلام كو حق سمجھتے ھوئے مسلمان ھورھے تھے جبكہ بعض افراد اسلام كي قدرت اور شان و شوكت ديكھ كر يا پھر اس منفعت كے مد نظر مسلمان ھوئے جو انھيں اسلام قبول كرنے كے بعد حاصل ھوسكتي تھي۔
بالآخر آٹھ ھجري ميں مكہ فتح ھوا اور اسلام سارے جزيرة العرب پر چھا گيا، اھل مكہ نے جب اسلام كے سپاھيوں كي يہ شان و شوكت ديكھي تو ان كے پاس اسلام لانے كے علاوہ كوئي دوسري راہ نہ تھي 72، اس وقت مسلمانوں كي تعداد اپنے عروج پر پھنچ چكي تھي ليكن وہ ايماني لحاظ سے مضبوط نہ تھے اور چند حقيقي مسلمان اور پيغمبر (ص) كے مطيع و فرمانبردار افراد كے علاوہ اگر بقيہ تمام افراد كو مصلحتي مسلمان كھا جائے تو بے جانہ ھوگا۔
مسلمانوں كي بڑھتي ھوئي تعداد كي وجہ سے اب انصار جزيرة العرب كے تنھا مسلمان نہ تھے بلكہ مسلمانوں كے جم غفير ميں ايك چھوٹي سي جماعت كي حيثيت ركھتے تھے ليكن پيغمبر اسلام (ص) ھميشہ انصار كي حمايت اور ان كي قدر داني كرتے تھے اس لئے كہ انھوں نے اسلام كے ابتدائي دور ميں كسي قسم كي قرباني سے دريغ نھيں كيا تھا، عرصہ دراز پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي تعليم و تربيت كے زير سايہ رھنے كي وجہ سے ان كي اكثريت با ايمان تھي يھاں تك كہ پيغمبر اسلام (ص) نے اپني زندگي كے آخري لمحات ميں بھي انھيں فراموش نہ كيا اور ان كے سلسلے ميں سب كو يہ وصيت فرمائي۔ "انھم كانو عيبتي التي أويتُ اليھا فأحسنوا الي محسنھم و تجاوزوا عن مُسيئتھم" 73 "انصار ميرے قابل اعتماد اور ھم راز تھے ميں نے ان كے پاس پناہ لي لھٰذا ان كے نيك افراد كے ساتھ نيكي اور ان كے بروں سے در گذر سے كام لينا" انصار بھي پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي عنايات اور حمايت كي وجہ سے ھميشہ جوش و خروش سے سرشار رھتے تھے۔

 سقيفہ كے حقائق ( روایت ابومخنف كي روشني ميں)         تارى، جليل

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved

Fatal error: Exception thrown without a stack frame in Unknown on line 0