لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 مئی 14

بعض افراد كي حضرت (ع) سے كينہ پرورى


           
3۔ بعض افراد كي حضرت (ع) سے كينہ پرورى

عربوں كي ايك نماياں خصلت كينہ پروري ھے 86 اور اس بات كے پيش نظر كہ حضرت علي (ع) نے ابتداء اسلام ھي سے متعدد جنگوں ميں شركت كي اور بھت سے افراد آپ كے دست مبارك سے قتل ھوئے اور ان مقتولين كے ورثاء مسلمانوں كے درميان موجود تھے اور يہ افراد شروع سے ھي اپنے دلوں ميں حضرت علي عليہ السلام كي طرف سے كينہ ركھتے تھے لھٰذا يہ امكان تھا كہ يہ لوگ ھرگز آپ كي خلافت پر راضي نہ ھوں گے۔
يہ كھنا كہ يہ لوگ سچے مسلمان ھوگئے تھے اور انھوں نے ماضي كے تمام واقعات و حوادث كو بھلاديا تھا يہ اس بات كي دليل ھے كہ آپ عربوں كي خصلت سے اچھي طرح واقف نھيں ھيں خاص طور پر اس زمانے كے عربوں سے،مثال كے طور پر جب سورۂ منافقون نازل ہوا اور عبد اللہ بن ابى (جو منافقين كا سردار تھا) رسوا ھوگيا تو عبداللہ بن ابي كے بيٹے نے پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے عرض كي كہ آپ مجھے اجازت ديجئے كہ ميں اپنے باپ كو خود ھي قتل كردوں اس لئے كہ ميں يہ نھيں چاھتا كہ كوئي دوسرا اسے قتل كرے اور ميں اس كا كينہ اپنے دل ميں ركھوں 87، صدر اسلام ميں اس قسم كي بھت سي مثاليں موجود ھيں ليكن غور كيا جائے تو صرف يھي ايك مثال كافي ھے كہ كس طرح سے ايك آدمي اس بات پر راضي ھے كہ وہ اپنے ھاتھوں سے اپنے باپ كو قتل كردے ليكن كوئي دوسرا اسے قتل نہ كرے كھيں ايسا نہ ھو اس كا كينہ اپنے دل ميں لئے ركھے، اس واقعہ سے يہ بات كھل كر سامنے آتي ھے كہ بعض افراد حضرت علي عليہ السلام سے كينہ كيوں ركھتے تھے۔

سقيفہ كے حقائق ( روایت ابومخنف كي روشني ميں)      تارى، جليل

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved

Fatal error: Exception thrown without a stack frame in Unknown on line 0