لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 اپریل 09

مشترکہ فطرت سے مراد


           
مشترکہ فطرت سے مراد (٤)
حیوان کے مختلف اقسام میں مشترکہ جہتیں اور خصوصیات ہوتی ہیں ۔ فطری چیزوں کا وجود 
..............
(١)ڈور کیم کی طرح جامعہ کو اصل سمجھنے میں افراط کرنے والے اور ژان پل سارٹر کی طرح عقیدۂ وجود رکھنے والے اور فرڈریچ ہگل (Georg Wilhelm Friedrich Hegel)کی طرح عقیدہ ٔ تاریخ رکھنے والے نیزریچارڈ پالمر(Richard Palmer) منجملہ ان لوگوں میں سے ہیں جومورد نظر معانی میں انسان کی مشترکہ فطرت کے منکر ہیں .ملاحظہ ہو: اسٹیونسن ، لسلی ؛ ہفت نظریہ در باب انسان ؛ ص ١٣٦۔ ١٣٨۔ محمد تقی مصباح ؛ جامعہ و تاریخ از دیدگاہ قرآن ؛ سازمان تبلیغیات اسلامی ، تہران ؛ ١٣٦٨، ص ٤٧و ٤٨۔ (٣)کیسیرر ، ارنسٹ ،گذشتہ حوالہ؛ ص٢٤٢۔ 
Cjose Ortega Y Gasset .(٢)
(٤)کلمہ'' فطرت انسان''کے مختلف و متنوع استعمالات ہیں : مالینوفسکی کی طرح مفکرین اس کو مادی ضرورتوںمیں منحصر کردیتے ہیں . کولی کی طرح بعض دوسرے مفکرین'' اجتماعی فطرت''خصوصاً اجتماعی زندگی میں جو احساسات اور انگیزے ابتدائی معاشرے میں ہوتے ہیں بیان کرتے ہوئے متعدد فطرت و سماج پر یقین رکھتے ہیں، بعض نے اجتماعی فطرت کوابتدائی گروہ( جیسے خاندان) اور سماجی طبیعت و اجتماعی کمیٹیوں سے وجود میں آنے کے بارے میں گفتگو کی ہے ،وہ چیز جو ان نظریات میں معمولاً مورد غفلت واقع ہوتی ہے وہ انسان کی مخصوص اور بلند و بالا فطرت ہے جو انسان و حیوان کی مشترکہ اور اس کی مادی و دنیاوی ضرورتوں سے بلند و بالا ہے اور یہ وہ حقیقت ہے جو اس بحث میں شدید مورد توجہ واقع ہوئی ہے ۔ 
جیسے نفس کو بچانا اور حفاظت کرنا اور تولید نسل کرنا وغیرہ ان کی مشترکہ فطرت پر دلالت کرتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ فطری چیزیں سبھی حیوانوں کے درمیان مشترک ہیں لیکن حیوان کی ہر فرد ان مشترکہ فطرت کے علاوہ اپنے مطابق صفات وکردار کی بھی مالک ہوتی ہے ،چونکہ حیوانوں کے اندر نفوذ کرکے ان کی ذاتیات کو کشف کرنا انسان کے لئے خیال و گمان کی حد سے زیادہ میسر نہیں ہے، لہٰذا بیرونی افعال جیسے گھر بنانے کا طریقہ ، غذا حاصل کرنا ، نومولود کی حفاظت ، اجتماعی یا فردی زندگی گذارنے کی کیفیت اور اجتماعی زندگی میں تقسیم کار کی کیفیت کے عکس العمل کی بنیاد پر حیوان کی ایک فرد کو دوسری فرد سے جدا کیا جاسکتاہے ،مذکورہ خصوصیات کو حیوانوں کی فطرت و طینت کے فرق و تبدیلی کی وجہ سمجھنا چاہیئے ۔
انسان کا اپنی مخصوص فطرت و طینت والا ہونے سے مراد یہ بات ثابت کرنا نہیں ہے کہ انسان سبھی حیوانوں کی طرح ایک حیوان ہے اور حیوانوں کی ہی قسموں میں سے ہر ایک کی طرح یہ نوع بھی اپنی مخصوص امتیاز رکھتی ہے ،بلکہ مقصود اس نکتہ کا ثابت کرنا ہے کہ انسان حیوانی فطرت کے علاوہ بعض مشترکہ خصوصیات کا مالک ہے ۔حیوانی وکسبی چیزوں کے بجائے مشترکہ خصوصیات کامقام جستجو ،فہم خواہشات اور انسان کی توانائی ہے،اگر ہم یہ ثابت کرسکے کہ انسان ،مخصوص فہم و معرفت یا خواہشات و توانائی کا مالک ہے جس سے سبھی حیوانات محروم ہیں تو ایسی صورت میں انسان کی خصوصیت اور حیوانیت سے بالاتر مشترکہ فطرت ثابت ہوجائے گی ۔(١) 
..............
(١)فصل اول میں ہم ذکر کرچکے ہیں کہ انسان اور اس کی خصوصیات کی معرفت کے لئے چار طریقوں ؛ عقل ، تجربہ ، شہود اور وحی سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔ اور ان کے درمیان طریقہ وحی ،کو مذکورہ خصوصیات کی روشنی میں دوسری راہوں پر ترجیح حاصل ہے اگرچہ ہر راہ و روش اپنے مخصوص مقام میں نتیجہ بخش ہے، فطرت انسان کی شناخت میں بھی یہ مسئلہ منکرین کے لئے مورد توجہ رہا ہے اورانھوں نے اس سلسلہ میں بحث و تحقیق بھی کی ہے۔ جو کچھ پہلی فصل میں بیان ہوچکا ہے وہ ہمیں مزید اس مسئلہ میں گفتگو کرنے سے بے نیاز کردیتا ہے ۔ اس سلسلہ میں مزید معلومات کے لئے :ملاحظہ ہو؛ ازرائل شفلر ؛ در باب استعدادھای آدمی ، گفتاری در فلسفہ تعلیم و تربیت ، دفتر ہمکاری حوزہ و دانشگاہ ، سمت ، ١٣٧٧ تہران : ص ١٦٣

مشترکہ فطرت کی خصوصیات

جیسا کہ اشارہ ہوچکا ہے کہ انسان کی مشترکہ فطرت کی پہلی خصوصیت اس کا حیوانیت سے بالاتر ہونا ہے اس لئے کہتمایل و رجحانات تفکرو بینش حیوانوں میں پائی ہی نہیں جاتی ہے مثال کے طور پر نتیجہ اور استدلال کی قدرت اور جاہ طلبی یا کم از کم انسان کے اندر و سعت کے مطابق ہی یہ چیزیںپائی جاتی ہیں جو باقی حیوانوں میں نہیں ہوتی ہیں مثال کے طور پر گرچہ حیوانات بھی معلومات رکھتے ہیں لیکن حیوانوں کی معلومات انسانوں کی معلومات کے مقابلہ میں نہ ہی اس میں وسعت ہے اور نہ ہی ظرافت و تعمق جیسے صفات کی حامل ہے ،اسی وجہ سے انسان اور حیوان میں معلومات کے نتائج و آثار بھی قابل قیاس نہیں ہیں ، علم و ٹیکنالوجی انسان سے مخصوص ہے ۔مشترکہ فطرت کی دوسری خصوصیت ، حضوری فطرت ہے ۔ تعلیم و تعلّم اور دوسرے اجتماعی عوامل اور مشترکہ فطرت کے عناصر کی پیدائش میں ماحول کا کوئی کردار نہیں ہے اسی بنا پر یہ عناصر انسان کی تمام افراد میں ہر ماحول و اجتماع اور تعلیم تعلّم میں (چاہے شدت و ضعف اور درجات متفاوت ہوں )وجود رکھتا ہے ۔
انسان کی مشترکہ فطرت کے عناصر کی تیسری خصوصیت ،لازوال ہونا ہے ،انسان کی مشترکہ فطرت چونکہ اس کی انسانیت کی ابتدائی حقیقت و شخصیت کو تشکیل دیتی ہے لہٰذا انسان سے جدا اور الگ نہیں ہوسکتی اور فرض کے طور پر اگر ایسے افراد ہوں جو ان عناصر سے بے بہرہ ہوں یا بالکل کھو چکے ہوں ان کی حیثیت حیوان سے زیادہ نہیںہے اور ان کا شمارانسان کی صفوں میں نہیں ہوتابلکہ کبھی تو بعض عناصر کے نابود ہو جانے سے اس کی دائمی زندگی مورد سوال واقع ہوجاتی ہے مثال کے طور پر جو قدرت عقل و دانائی سے دور ہو یا عقل ہی نہ رکھتا ہو وہ گرچہ ظاہری شکل و صورت ، رفتار و کردار میں دوسرے انسانوں کی طرح ہے لیکن در حقیقت وہ حیوانیجہت سے اپنی زندگی گذار رہا ہے اور اس سے انسانی سعادت سلب ہوچکی ہے، مذکورہ خصوصیات میں سے ہر ایک انسان کی مشترکہ فطرت کے عناصر کی معرفت کے لئے معیار ہیں ۔ اور ان خصوصیات کا انسان کے ارادے اور تمایل ، فکری توانائی اور بینش کا ہونااس بات کی علامت ہے کہ یہ ارادے ،فکری توانائی اور بینش ،انسانی فطرت کا حصہ ہیں ۔ 

ماخوذازکتاب : انسان شناسی             مؤلّف : حجۃ الاسلام محمود رجبی 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved

Fatal error: Exception thrown without a stack frame in Unknown on line 0