لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 نومبر 10

طاقتور روح کی پرورش


           
۵ ۔طاقتور روح کی پرورش

ان دعاؤں کا ایک اور اثر یہ ہوتا ہے کہ یہ پڑھنے والے کو قوت بخشتی ہیں تاکہ وہ خود کو لوگوں سے بے غرض بنالے ، ان کے سامنے ذلیل و خوار نہ ہو اور اپنی حاجت صرف خدا کے سامنے پیش کرے، جاننا چاہیے کہ اس چیز کی خواہش کرنا جو دوسروں کے ہاتھ میں ہو انسان کی ایک گھٹیا عادت ہے۔ 
جیسا کہ بیسوی دعا میں ہم پڑھتے ہیں : 
وَلاَ تَفتِنِّی بِالاِستِعَانَۃِ بِغَیرِکَ اِذَا اضرُرِرتُ وَلاَ بِالخُضُوعِ لِسُؤَلِ غَیرِکَ اَذا افتَقَرتُ وَلاَ بِالتَّضَرُّعِ اِلٰی مَن دُونَکَ اِذَا رَھِبتُ فَاستَحِقَّ بِذٰلِکَ خَذ لاَنَکَ وَ مَنعَکَ وَاِعرَاضَکَ :۔ مجھے اس خرابی میں نہ ڈال کہ مجبوری میں تیرے سوا کسی اور سے مدد چاہو، مفلسی میں تیرے سوا کسی اور سے گھگھیا کر مانگوں، ڈر کے مارے غیر کے سامنے رؤو پیٹوں اور گمراہیوں کی وجہ سے ذلت اور رسوائی، تیری رحمت سے دوری اور تیری بے توجہی کا سزوار بن جاؤں۔ 
اٹھائیسویں دعا میں ہم پڑھتے ہیں: 
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَخلَصتُ بِانقِطَاعِیٓ اِلَیکَ وَاَقبَلتُ بِکُلِّی عَلَیکُ وَصَرَفتُ وَجھِی عَمَّن یَحتَاجُ اِلٰی رِفدِکَ وَقَلَبتُ مَسئَلَتِی عَمَّن لَّم یَستَغنِ عَن فَضلِکَ وَرَاَیتُ اَنَّ طَلَبَالمُحتَاجِ اِلَی المُحتَاجٍ سَفَۃٌ مِن رَایِہِ وَضَلَّۃٌ مِن عَقلِہِ :۔ اے خدا! میں نے تجھ سے دل لگایا ہے اور تیرے علاوہ اس غیر سے جو تیری مہربانی کا محتاج ہے الگ ہوگیا ہوں، اس سے جو تیرے کرم کا حاجتمند ہے میں نے اپنا سوال واپس لے لیا ہے اور یہ سمجھ لیا ہے کہ ایک حاجت مند کا دوسرے حاجت مند سے مانگنا سوچ بچار کی حماقت اور عقل کا بھٹکنا ہے۔ 
تیرھویں دعا میں ہم پڑھتے ہیں:۔ 
فَمَن حَاوَلَ سَدَّ خَلَّتِہِ مِن عِندِکَ وَرَامَ صَرفَ الفَقرِ عَن نَفسِہِ بِکَ فَقَد طَلَبَ حَاجَتَہُ فِی مَظَانِّھَا وَاَتٰی طَلَبَتَہُ مِن وَجھِھَا وَمَن تَوجَّہَ بِحَاجَتِہِ اِلٰی اَحَدٍمّ،ن خَلقِکَ اَوجَعَلَہُ سَبَبَ نُجحِھَا دَونَکَ فَقَد تَعَرَّضَ لِلحِرمَانِ وَاستَحَقَّ مِن عِندِکَ فَوتَ الاِحسَانِ :۔ جو کوئی تیرے حضور میں اپنی حاجت مندی کا نقص مٹانے کی درخواست کرتا ہے اور اپنی مفلسی تیرے کرم سے دور کرنا چاہتا ہے وہ واقعی ٹھیک جگہ سے اپنی حاجتیں طلب کرتا ہے اور اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے ماسب راستے سے آتا ہے لیکن جس کسی نے اپنی ضرورت کی خاطر تیری کسی مخلوق کی طرف رخ کیا یا تیرے سوا کسی اور کو اپنی حاجت برآری کا سبب ٹھیرایا وہ اس بات کا سزاوار ہے کہ تجھ سے مایوس ہوجائے یا تیرے احسان اور بخشش میں شامل نہ ہو

 نام کتاب:         مکتب تشیع

مصنف:           محمد رضا مظفر
Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved