لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 مئی 11

شان نبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور اس کا تحفظ ( حصّہ چہارم )


           

شان نبي  صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور اس کا تحفظ ( حصّہ چہارم )

بسم الله الرحمن الرحیم

 

رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم بہترين مثالي نمونہ

ارشاد الٰہي ہے:

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ يَرْجُوا اللّٰہَ وَ الْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِيْرًا (سورۃ الاحزاب،21)

تم کو رسول اللہ کي پيروي (کرني) بہتر ہے(يعني) اس شخص کو جسے اللہ (سے ملنے) اور روزِقيامت (کےآنے) کي اميد ہو اور وہ اللہ کا ذکر کثرت سے کرتا ہو-آپ صلي اللہ عليہ وسلم کا ہر قول و فعل، گفتار و کردار ، نشست و برخاست غرضيکہ آپ کي ذات سے صادر ہونے والي ہر چيز سراپا ہدايت ہے- اس ليے آپ صلي اللہ عليہ وسلم کي ذاتِ عالي کو امت کے ليے بہترين مثالي نمونہ قرار ديا گيا- جو شخص آپ کو مثالي نمونہ نہيں سمجھتا اور آپ صلي اللہ عليہ وسلم کے اقوال و افعال کو واجب الاطاعت اور لائق اقتداء نہيں سمجھتا اسے نہ اللہ پر ايمان ہے نہ آخرت پر---اس کا دل ذکر الٰہي کے نور سے منور نہيں بلکہ محروم ہونے کي وجہ سے ظلمت کدہ ہے-

فرمان رسول صلي اللہ عليہ وسلم کو بلا چون و چرا قبول کرنا

ارشاد الٰہي ہے:

وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِِنَّ اللّٰہَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ

(الحشر،7)

’’اور رسول تمہيں جو کچھ بھي دے ديں اس کو لے لو اور جس چيز سے روک ديں اس سے رک جاؤ- اور اللہ تعاليٰ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ تعاليٰ سخت عذاب دينے والے ہيں-‘‘

اس آيت ميں اللہ تعاليٰ حکم ديتا ہے کہ آپ صلي اللہ عليہ وسلم کي طرف سے جو کچھ ديا جائے اس کو بلا چون وچرا قبول کر لو اور آپ کے منع کردہ امور سے باز رہو اگر انھوں نے ايسا نہ کيا تو ان کے حق ميں شديد عذاب کا انديشہ ہے-

منبع : تبیان ڈاٹ نٹ  

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved