لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 نومبر 10

ظالموں کی طرف سے کام قبول کرنا


           
ظالموں کی طرف سے کام قبول کرنا
جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ظالموں کی مدد اور ان کے ساتھ کام کرنے کی چاہے ایک کھجور کے ٹکڑے کے برابر ہی کیوں نہ ہو بلکہ ان کے لیے زندگی کی خواہش کرنے کی بھی ائمہ اطہار ؑ نے نہایت سختی سے ممانعت کی ہے۔ پھر اس کے بارے میں تو کہا ہی کیا جائے جو ایسی حکومت میں شریک ہے اور ایسی ظالم حکومت کے منصوبوں اور عہدو پر متعین ہے۔ اس سے بھی آگے اس شخص کے لیے کیا کہا جائے جو ایسی حکومت کی بنیاد ڈالنے والوں میں سے ہو اور جو اس حکومت کو قوت پہنچانے اور مضبوط بنانے والے کارکنوں میں شمار کیا جائے کیونکہ امام جعفر صادق ؑ کے فرمان کے مطابق ظالم حکومت تمام صحیح قوانین کے مٹنے، باطل کے زندہ ہونے اور ظلم اور تباہی کے ظاہر ہونے کا موجب بنتی ہے۔ 
البتہ ائمہ اطہار ؑ نے بعض خاص موقعوں پر ان عہدوں کا قبول کرنا جائز سمجھا ہے مثلاً ظالم حکومت کی طرف سے ایک ایسا منصب قبول کرنا جو انصاف قائم کرنے، خدائی سزائیں دینے، مومنوں سے احسان اور نیکی کرنے، حلال کا حکم دینے اور حرام سے منع کرنے کے لیے ہو جیسا کہ امام موسیٰ بن جعفر ؑ ایک حدیث میں فرماتے ہیں : 
اِنَّ لِلّٰہِ فِیٓ اَبوَابِ الظُّلمَۃِ مِن نُّورِ اللہِ بِہِ البُرھَانَ وَمَکَّنَ لَہُ فِی البِلاَدِ اُمُورَ المُسلِمِینَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ المُؤمِنُونَ حَقّاً اُولٰٓئِکَ مَنَارُ اللہِ فِیٓ اَرضِہِ اُولٰٓئِکَ نُورُ اللہِ فِی رَعِیَّتِہِ :۔ ظالموں کے یہاں خدا کے لیے کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ذریعے سے خدا لوگو پر اپنی دلیل اور حجت ظاہر کرتا ہے اور ان کو شہروں میں اختیار دیتا ہے تاکہ ان کے وسیلے سے اپنے دوستوں کی مدد ہو، ان سے شر دفع ہو اور مسلمانوں کے کام سدھریں ایسے لوگ اصلی مومن ہوتے ہیں، ایسے لوگ زمین پر خدا کی واضح علامتیں اور نشانیاں اور خدا کے بندوں میں اس کی روشنی ہوتے ہیں 
اس کے بارے میں ائمہ اطہار ؑ سے بہت سی روایتیں ہیں جو مذکورہ حکومتوں کے منصب داروں کے فرائض اور اچھے طرز عمل پر روشنی ڈالتی ہیں مثلاً امیرا ہواز عبداللہ نجاشی کے نام امام جعفر صادق ؑ کا رسالہ جس کا ذکر ایک بہت بڑے محقق شیخ حرعاملی نے وسائل الشیعہ کتاب البیع باب ۷۷ میں کیا ہے۔ 

اسلامی اتحاد کی ترغیب :۔

اہل بیت ؑ ان چیزوں کی بزرگی اور مضبوطی کی شدید خواہش رکھتے تھے جن سے اسلام کا اظہار ہوتا ہے ۔ اور اسلام کی عزت، مسلمانوں کے اتحاد، ان میں بھائی چارے کی حفاظت اور مسلمانوں کے دلوں اور ذہنوں سے ہر قسم کی دشمنیاں دور کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔ 
مولی الموحدین ، امام المتقین ، امیر المومنین حضر ت علی ؑ کا ان خلفاء کے ساتھ طرز عمل جو ان سے پہلے مسند خلافت پر بیٹھے تھے بھلایا نہیں جاسکتا۔ اگرچہ آپ خلافت کو اپنا حق سمجھتے تھے اور ان لوگوں غاصب ، تاہم آپ نے ان کے ساتھ (مسلمانوں کے اتحاد کی حفاظت کی خاطر) صلح جوئی اور مصاحبت رکھی بلکہ (ایک مدت تک) آپ نے اپنا یہ عقیدہ بھی عوام کے مجمعوں میں پیش نہیں کیا کہ منصب خلافت پر جس کا تعین کیا گیا ہے وہ صرف وہی ہیں لیکن جب حکومت آپ کے ہاتھ میں آئی تو آپ نے ""میدان رحبہ"" (نوٹ،کوفہ کا وہ مقام جہاں امیرالمومنین ؑ عموماً اپنے دور خلافت میں خطبہ دیا کرتے تھے) میں رسول ﷺ کے باقی ماندہ اصحاب سے جنہوں نے غدیر کے دن حضور سرورکائنات ﷺ کی طرف سے آپ کا تقرر دیکھا تھا گواہی چاہی، آپ نے ان باتوں کا بے جھجک ذکر کیا جن میں مسلمانوں کے فائدے اور بھلائیاں تھیں۔ یہ اسی اتحادالمسلمین کے خیال سے تھا جو آپ نے اپنی حکومت سے پہلے کے زمانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: 
فَخَشِیتُ اِن لَّم اَنصُرِالاِسلاَمَ وَ اَھلَہُ اَرٰی فِیہِ ثَلماً وَّھَدماً :۔مجھے ڈر تھا کہ اگر میں اسلام اور مسلمانوں کا ساتھ نہیں دوں گا تو اسلام میں تفرقہ اور تباہی پھیل جائے گی۔ 
یہی وجہ تھی کہ خلافت شروع ہونے کے بعد امام ؑ کی جانب سے کوئی ایسی بات دیکھنے میں نہیں آئی کہ ان کی گفتگو یا عمل سے (اسلام کی طاقت کی حفاظت کے خیال سے)خلفاء کی طاقت اور دبدبے کو نقصان پہنچے یا ان کی طاقت گھٹنے یا ان کی شان اور رعب میں بٹا لگنے کا سبب بنتی ، خلفاء کی ان کارروائیوں کے باوجود جو آپ دیکھتے تھے اپنے نفس پر قابو رکھتے ہوئے گھر میں بیٹھے رہے یہ تمام احتیاطیں محض اس لیے تھیں کہ اسلام کے فائدے محفوظ رہیں اور اسلام اور مسلمانوں کے اتحاد اور میل جول کے محل میں کوئی خرابی اور دراڑ پیدانہ ہو چنانچہ یہ احتیاط لوگوں نے آپ ہی سے سیکھی سمجھی ۔ 
حضرت عمر ابن خطاب بار بار کہتے تھے: 
لاَ کُنتُ لِمُعضَلَۃٍ لَیسَ لَھَا اَبُو الحَسَن :۔ خدا نہ کرے کہ میں ایسی مشکل میں پڑوں کہ جہاں ابوالحسن نہ ہوں۔ 
یا 
لَولاَ عَلِّیٌ لَھَلَکَ عُمَرُ :۔ اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا ۔ 
(نوٹ، ۱۔صحیح بخاری، کتاب المحاربین ، باب الایرجم المجنون ،سنن ابی داود، باب مجنون یسرق صفحہ ۱۴۷، مسند احمد بن حنبل جلد ۱ صفحہ ۱۴۰ و ۱۵۴،سنن دار قطنی، کتاب الحدود صفحہ ۳۴۶، کنرالعمال، علی متقی، جلد ۳ صفحہ ۹۵،فیض القدریر ،منادی،جلد ۴ صفحہ ۳۵۶، موطا، مالک، کتاب الاشر بہ صفحہ ۱۸۶ ، مسند، شافعی، کتاب الاشربہ صفحہ ۱۶۶ ، مستدرک حاکم جلد ۴ صفحہ ۳۷۵، سنن بیہقی صفحہ ۱۲۳ ، ریاض النضرہ، محب طبری، جلد ۲ صفحہ ۱۹۶، طبقات ابن سعد جلد ۲ باب ۲ صفحہ ۱۰۲، شرح معافی الآثار، طحاوی، کتاب القضاء صفحہ ۲۹۴ ، استیعاب، ابن عبدالبر، جلد ۲ صفحہ ۴۶۳، نورالابصار، ثعلبی، صفحہ ۵۶۶، درمنشور، سیوطی، سورہ مائدہ آیت خمر) 
امام حسین ؑ کی روش بھی کبھی بھلائی نہیں جاسکتی کہ انہوں نے کس طرح اسلام کی حفاظت کی خاطر معاویہ سے صلح کی، جب آپ نے دیکھا کہ اپنے حق کے دفاع کے لیے جگ پر اصرار کرنا، قرآن اور عادلانہ حکومت ہی کونہیں بلکہ اسلام کے نام کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مٹادے گا اور شریعت الہٰیہ کو بھی نابود کردے گا تو آپ نے اسلام کی ظاہری نشانیوں اور دین کے نام کی حفاظت ہی کو مقدم سمجھا۔ 
اگرچہ یہ رویہ اس کے برابر ٹھہرا کہ ان ظالموں کے باوجود جن کے بارے میں یہ انتظار تھا کہ آپ پر اور آپ کے شیعوں پر ڈھائے جائیں گے، معاویہ جیسے اسلام اور مسلمانوں کے سخت دشمن اور آپ سے اور آپ کے شیعو سے دل میں بغض اور کینہ رکھنے والے دشمن سے صلح کی جائے۔ اگرچہ بنی ہاشم اور آپ کے عقیدت مندوں کی تلواریں نیام سے باہر آچکی تھیں اور حق کے بچاؤ اور حصول کے بغیر نیام میں واپس جانے کو تیار نہیں تھیں لیکن امام حسن ؑ کی نظر میں اسلام کے اعلیٰ فوائد اور مقاصد کی پاسداری ان تمام معاملات پر فوقیت رکھتی تھی۔ 
لیکن جب اسلام کے یہی اعلیٰ مقاصد معرض خطر میں پڑگئے تو امام حسین ؑ نے اپنے بھائی امام حسن ؑ کے طرز عمل سے جداگانہ رویہ اختیار کیا(نوٹ، تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیے مکتب اسلام مولفہ علامہ محمد حسین طباطبائی مطبوعہ جامعہ تعلیمات اسلامی) اور امام حسین ؑ باطل کے خلاف ڈٹ گئے، کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ بنی امیہ کی حکومت اس راستے پر چل رہی ہے کہ اگر اسی طرح چلتی رہی اور کوئی اس کی برائیاں کھول کر سامنے نہیں لایا تو حکمران اسلام کی بنیادیں ڈھادیں گے اور اسلام کی عظمت ختم ہوجائے گی، آپ نے چاہا ہے کہ اگر اسی طرح چلتی رہی اور کوئی اس کی برائیاں کھول کر سامنے نہیں لایا تو حکمران اسلام کی بنیادیں ڈھادیں گے اور اسلام کی عظمت ختم ہوجائے گی۔ آپ نے چاہا کہ اسلام اور شریعت رسول ﷺ سے ان کی دشمنی تاریخ میں محفوظ کر دیں اور ان کو ان برائیوں سمیت رسوا کریں چنانچہ امام حسین ؑ نے جس طرح چاہا تھا اسی طرح ہوا۔ 
اگر آپ کھڑے نہ ہوتے تو اسلام اس طرح فنا ہو جاتا کہ صرف تاریخ اسے ایک غلط مذہب کے نام سے یاد کرتی۔ 
شیعیان اہل بیت ؑ جو طرح طرح سے سیدالشہداء امام حسین ؑ کی یاد تازہ رکھنے سے شدید دلچسپی رکھتے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ ان کی تحریک کی تبلیغ مکمل کریں جو ظلم وستم کو کچلنے کے لیے وجود میں آئی تھی اور ان کا مقصد (جو عدالت کا قیام تھا) حاصل کریں تاکہ امام حسین ؑ کے بعد ائمہ اطہار ؑ کی رسم کے مطابق عاشورہ محرم کی یاد تازہ کرنے کے معاملے میں ان کی پیروی اور اتباع کرنے والے بن جائیں، یہی وجہ ہے کہ ""عاشورہ "" ہمارا شعار بن گیا۔(نوٹ، تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمایئے فلسفہ شہادت مولفہ مرتضیٰ مطہری، مطبوعہ جامعہ تعلیمات اسلامی) 
اسلام کی عظمت کو قائم رکھنے سے اہل بیت ؑ کی انتہائی دلچسپی (نوٹ عظمت اسلام ان باتوں سے عبارت ہے خدائے واحد کی عبادت اور حکومت ، دین، رہبران دین اور بنی نوع انسان کے حقوق کا پاس، معاشرے میں انفرادی اور اجتماعی عدالت کا اجراء، انسانوں کے مابین اسلامی اخوت اور مساوات اور فکر و عمل کی آزادی، اسلام یعنی کتاب و سنت کے انہی آفاقی اصولوں کی حفاظت اور بقا کے لیے ائمہ اہل بیت ؑ نے اپنی زندگیاں وقف کر دی تھیں۔ انہوں نے ایسے افراد کی تربیت کی جو ا سنہرے اصولوں کی پاسداری کرسکیں۔ اگر کوئی شخص یا گروہ ان اصولوں کے حصار کو توڑ کر کسی کا حق غصب کرے، عدل و انصاف کی دھجیاں بکھیرے ، طبقاتی نظام قائم کرے، انسانوں کی آزادی سلب کرے یا فرعونیت کا اظہار کرے تو وہ قرآ کی اصطلاح میں طاغوت ہے اور وہ بندگان خدا جن پر ایسی افتاد نازل کی جائے اور انہیں خدائے منعم کی دی ہوئی نعمتوں سے محروم کردیا جائے وہ مستضعف ہیں۔ شیعیان اہل بیت ؑ خدائے عزوجل کے سوا کسی کو سپر پاور تسلیم نہیں کرتے اور اپنے اپنے زمانے کے طاغوتوں سے ٹکر لینے اور کلمہ لا الہ الا اللہ کو بلند کرنے اور مظلوموں کی حمایت کرنے کو اپنا اشعار قرار دیتے ہیں جب وہ کلمہ طیبہ اپنی زبان پر جاری کرتے ہیں، تو وہ انہیں اصولوں پر اپنے ایمان اور ان سے وابستگی کا اظہار کرتے ہیں) اگرچہ ان کے دشمن حالات پر حاوی تھے۔۔امام علی زین العابدین ؑ کی زندگی سے ظاہر ہوجاتی ہے۔ اگرچہ آپ سلاطین بنی امیہ کے مد مقابل تھے اور بنی امیہ نے آپ کے رشتہ داروں کا خون بھی بہایا تھا اور آپ کے خاندا ن کی بے ادبی اور توہین کرنے میں حد سے گزر چکے تھےاور آپ کربلا کے دل ہلادینے والے حادثے کے باعث جس میں بنی امیہ نے آپ کے پدر بزگوار اور ان کے حرم پر بے حد و حساب ظلم توڑے تھے سخت دلگیر اور غمگین تھے پھر بھی آپ تنہائی میں مسلمانوں کی فوج کے لیے دعا کیا کرتے تھے اور خدا سے ان کی فتح ، اسلام کی عزت اور مسلمانوں کی امنیت اور سلامتی چاہتے تھے۔ 
اس سے پہلے بتایا جا چکا ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے امام زین العابدین ؑ کا واحد ہتھیار آپ کی دعا تھی آپ نے اپنے عقیدت مندوں کو یہ سکھایا کہ اسلامی فوج اور مسلمانوں کے لیے کس طرح دعا کریں۔ 
امام زین العابدین ؑ اس دعا میں جو ""دعائے اہل ثغور"" کے نام سے مشہور ہے یوں فرماتے ہیں۔ 
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہِ وَ حَصِّن ثُغُورَ المُسلِمِینَ بِعِزَّتِکَ وَ اَیِّدحُمَاتِھَا بَقُوَّتِکَ وَ اَسبِغ عَطَایَاھُم مِن جِدَتِکَ اَللّٰھُمَّ صَلِ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہِ وَکَثِّر عَدَّتَھُم وَاشحَذ اَسلِحَتَھُم وَاحرُس حَوزَتَھُم وَامنَع حَومَتَھُم وَ اَلِّف جَمعَھُم وَدَبِّر اَمرَھُم وَ وَاتِر بَینَ مِیَرِھِم وَتَوّحَّد بِکِفَایَۃِ مُؤنِھِم وَاعضُدھُم بِالنَّصرِ وَاَعِنھُم بِالصّبرِ وَالطُف لَھُم فِی المَکرِ :۔ اے خدا محمد ﷺ اور آل محمد ؑ پر درود بھیج، مسلمانوں کی جماعت بڑھا، ان کے ہتھیار تیز کر، ان کے علاقے کی حفاظت کر، ان کی صف کی قابل توجہ حد مضبوط بنا، ان کی جماعت میں یک جہتی برقرار رکھ، ان کے کام پورے کر، ان کو روزی ان کے پیچھے پیچھے (ساتھ ساتھ۹ پہنچا، ان کے اخراجات پورے کر، ان کو اپنی مدد سے طاقتور بنا صبر اور ثابت قدمی سے ان کی امداد کر اور ان کو اپنے دشمنوں کے مقابلے میں اپنا راستا پالینے کی خفیہ حکمت عملی عطا فرما۔ (صحیفہ ، ستاءیسویں دعا) 
پھر کافروں پر لعنت بھیجنے کے بعد فرماتے ہیں: 
اَللّٰھُمَّ وَقَوِّ بَذٰلِکَ مِحَالَ اَھلِ الاَسلاَمِ وَحَصِّن بِہِ دِیَارَھُم وَثَمِّر بِہِ اَموَالَھُم وَفَرِّغھُم عَن مُحَارَبَتِھِم لِعِبَادَتِکَ وَعَن مُنَابَذَتِھِم لِلخَلوَۃِ بِکَ حَتّٰی لا یُعبَدَ فِی بَقَاعِ الاَرضِ غَیرُکَ وَلاَ تُعَفَّرَ لاَحَدٍ مِّنھُم جَبھَۃٌ دُونَکَ :۔ (نوٹ، یہ دعا واقعی کتنی اچھی اور جامع ہے، اس دور میں مسلمانوں کو چاہیے کہ یہ دعا دن رات پڑھا کریں اور اس کے معافی سے سبق لیں اور خدا سے چاہیں کہ وہ انہیں میل جول ، اتحاد، صفوں کا گٹھاؤ اور عقل کی روشنی عطا فرمائے)۔ 
اے خدا! اس دور اندیش وسیلے سے مسلمانوں (یا ان کے مقامات) کو طاقت عطا کر، ان کے شہر مستحکم اور ان کی دولت زیادہ کر، ان کو اپنی بندگی اور عبادت کے لیے اور اپنے ساتھ تنہائی اختیار کرنے کے لیے دشمنوں کی جنگ اور رگڑے جھگڑے سے فرصت اورسکون عطا فرماتا کہ روئے زمین پر تیرے سوا دوسرے کی عبادت نہ ہو اور تیرے سوا ان کی پیشانی کسی کے آگے نہ جھکے۔ 
امام زین العابدین ؑ اس بلیغ اور پر تاثیر دعا میں (جو ان دعاؤں میں سب سے لمبی ہے) لشکر اسلام کو اس کام کے لیے جو اس کے شایان شان ہے اس طرح آمادہ کرتے ہیں کہ وہ عسکری اور اخلاقی خوبیوں کے مالک بنیں اور دشمنوں کی صفوں کے مقابلے میں پوری طرح مل کر کھڑے ہوجائیں۔ 
آپ اس دعا کے پردے میں اسلامی جہاد کی فوجی تعلیم، نتیجہ ، مقصد اور اس کے فائدے بیان کرتےہیں اور دشمن سے تصادم اور جھڑپوں میں جنگی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہیں، اور ساتھ ساتھ یہ بھی آجاتا ہے کہ لڑائی کے بیچ میں خدا کی محبت، اس پر بھروسا ، گناہوں سے پرہیز اور خدا کی خاطر جہاد کرنا دھیان سے نہ اترے۔ 
اپنے زمانے کے حاکموں کے مقابلے میں باقی اماموں کا بھی یہی رویہ رہا۔ یہ بزرگ اگرچہ دشمنوں کی قسم قسم کی دھکمیوں اور دھوکے بازیوں، سنگدلیوں اور بے باکیوں کا مقابلہ کرتے رہے لیکن جب انہوں نے سمجھ لیا کہ حق حکومت ان کی طرف نہیں پلٹے گا تو بھی وہ اپنے اصل مقصد سے نہیں ہٹے اور لوگوں کی دینی اور اخلاقی تعلیم اور اپنے پیروکاروں کو مذہب کی بلند مرتبہ تعلیمات کی طرف متوجہ اور راغب کرنے میں مصروف رہے۔ 
یہ ہے اہل بیت رسول ؑ اور ان کے پیروکاروں کا طریقہ لیکن کتنا بڑا جرم ہے آج کل کے مصنفین کا جو چند ڈالروں اور ریالوں کی خاطر شیعوں کو ایک خفیہ، تخریب کار اور بنیاد اکھیڑ دینے والی جماعت کا نام دیتے ہیں۔ 
یہ صحیح ہے کہ ہر وہ مسلمان جو اہل بیت ؑ کے تعلیمی مکتب کا ماننے والا ہے وہ ظلم اور ظالموں کا دشمن ہوتا ہے ، ظالموں اور بدکاروں سے تعلق نہیں رکھتا اور ان لوگوں کو جو ظالموں کی مدد کرتے ہیں نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے چنانچہ یہ نیک عادت اور صحیح دستور ایک نسل سے دوسری نسل تک چلتا رہتا ہے لیکن اس کے یہ معنیٰ نہیں ہیں کہ ہم شیعوں کو بہانہ ، دھوکا اور مکر وغیرہ کے عنوان سے پہچانیں۔ 
شیعہ مسلمان دوسرے مسلمانوں کو دھوکا دینا اپنے لیے جائز نہیں سمجھتے ۔ یہ وہ طریقہ ہے جو انہوں نے اپنے اماموں سے لیا ہے شیعوں کے عقیدے کی رو سے ہر اس مسلمان کا مال ، جان اور عزت محفوظ ہے جو خدا کی وحدانیت اور پیغمبر اسلام ﷺ کی رسالت کی گواہی دیتا ہے یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہتا ہے کسی مسلمان کی اجازت کے بغیر اس کا مال کھانا جائز نہیں ہے کیونکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھاءی ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کے ان حقوق کا خیال رکھے ج کی طرف ہم آگے کی بحث میں اشارہ کریں گے۔ 

 نام کتاب:         مکتب تشیع

مصنف:           محمد رضا مظفر
Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved