لدائی کہ عمل
  • تاریخ: 2012 اپریل 28

فلسفہ مناجات


           

فلسفہ مناجات

 

دعا اور مناجات بہت ہی قیمتی سرمایہ اور اسلام اورقرآن كے مسلم حقائق میں سے ہے كہ جس كے صحیح طریقے سے استفادہ كرنے سے روح و جسم كی پرورش ہوتی ہے۔ الكسیس كارل (مشہور انسان شناس) كہتا ہے: ""كوئی بھی اور قوم نابود نہیں ہوئی مگر اس نے دعا كو ترك كیا ہواور اپنے آپ كو موت كیلئے تیار كیا ہو"" (یعنی جس قوم نے بھی دعا كو ترك كیا ہو اس كا زوال اور نابودی قطعی اور یقینی ہے) دعا انسان كی روح اور فطرت پر بہت ہی عمیق اور گہرے آثار مترتب كرتی ہے اور اس كی اس طرح تربیت كرتی ہے كہ اس معاشرے، ماحول اور وراثت كو وہ اپنے لئے محدود سمجھتا ہے۔ ایسا لگتا ہے كہ اگر دعا ومناجات كرنے والا تمام شرائط كے ساتھ دعا مانگے تو وہ جو كچھ بھی طلب كرے اسے مل سكتا ہے اور جس دروازے كو بھی كھٹكھٹائے وہ اس پر كھل جاتاہے"" 1

مناجات، كمال، سعادت، مقام اور حیثیت كیلئے درخواست ہے بلكہ یہ ایك ایسی چیز ہے جو دعا كرنے والے كی لیاقت اور شائستگی سے حاصل ہوتی ہے اور دعا ومناجات كی تكرار ایسا شیوہ اور فریاد ہے كہ جس سے انسان كے روح پہ اثر ہوتا ہے اور اس كے وجود میں امید، عشق اور محبت كی قوت و طاقت پیدا ہوتی ہے جو اسے ہدف كو پانے اور اس تك پہنچانے كیلئے حركت میں لاتی ہے۔

جو انسان یہ درك كرلے اور جان لے كہ جو كچھ اس كے پاس ہے، اس كیلئے كافی نہیں ہے اور اسے قانع نہیں كرسكتا، دعا كرتا ہے تا كہ جو اس كچھ اس كے پاس ہونا چاہیے اسے مل جائے اور جیسا اسے ہونا چاہیے، اس مقام تك پہنچ جائے۔ ایسا ہی انسان ہمیشہ ایك بہتر مستقبل اور آئیڈیل كیلئے تمنا كرتا ہے اور اس تك پہنچنے كیلئے دعا كرتا ہے۔ یہ ہے دعا اور اس كے فلفسہ كے بارے میں مختصر سا خلاصہ، اب ہم تفصیل سے اس كے بارے میں گفتگو كریں گے۔

دعا كا مفہوم

لغت میں دعا، بلانے، سوال كرنے، كسی كو پكارنے اور كسی چیز كو كسی چاہنے یا مانگنے كو كہا جاتا ہے۔ 2

اصطلاح میں دعا یعنی خدا وند متعال سے اس كے فضل وعنایت كی درخواست اور اسی سے مدد مانگنا اور سرانجام اس كی بارگاہ میں نیازمندی اور عجز وانكساری كا اظہار كرنا اور انسان كے خالق كائنات سے معنوی رابطہ اور مناجات كا نام دعا ہے۔

قرآن اور مناجات

قرآن بعض آیات میں صریح طور پہ دعا اور مناجات كی دعوت دیتا ہے اور اجابت كا وعدہ بھی كرتا ہے۔ خدا وند متعال فرماتا ہے: ""واذا سئالك عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع اذا دعان فلیستجیبوا لی۔۔۔"" (بقرۃ:۱۸۶) اور جب میرا بندہ تجھ سے میری دوری اور نزدیكی كے بارے میں سوال كرے تو جان لیں كہ میں ان سے نزدیك ہوں جو بھی مجھے پكارے میں اس كی دعا كو مستجاب كروں گا۔

دوسری جگہ دعا كے بارے میں امر كرتے ہوئے فرماتا ہے: ""ادعونی اسستجب لكم ان الذین یستكبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم داخرین"" (غافر:۶۲) تمھارے پروردگار نے فرمایا كہ مجھے پكارو تاكہ میں تمھاری دعا مستجاب كروں اور وہ لوگ جو مجھ سے دعا اور میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں اور بغاوت كرتے ہیں بہت ہی جلد ذلت كے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔

روایات اور مناجات

۱۔ امام باقر(ع) سے پوچھا گیا: كون سی عبادت افضل ہے؟ حضرت نے فرمایا: كوئی بھی چیز خدا كے نزدیك اس سے بڑھ كر نہیں ہے كہ اس كی ذات پاك سے مانگا جائے اور دعا كی جائے اور جو كچھ اس كے پاس ہے طلب كیا جائے، اور جوانسان اس كی عبادت ودعا میں تكبر كرے اور نہ مانگے تو اس سے بڑھ كر كوئی بھی چیز اس كے پاس مبغوض نہیں ہے۔ 3

۲۔ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: عاجز ترین انسان وہ لوگ ہیں جو دعا نہ كرتے ہوں اور اس سے محروم ہوں۔ 4

۳۔ امام علی (ع) فرماتے ہیں: خدا كے نزدیك سب سے محبوب اور پسندیدہ عمل دعا اور مناجات ہے۔ 5

قرآن می انبیاء (ع) كی مناجات

۱ ۔حضرت آدم(ع) كی دعا:

جب حضرت آدم(ع) كو جنت سے باہر نكال دیا گیاتو آپ نے عرض كیا: ""ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا و ترحمنا لنكونن من الخاسرین"" (اعراف:۲۳) خدایا! ہم نے خود پر ظلم كیا ہے اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور رحم نہیں كرے گا تو ہم زیانكاروں میں سے ہوجائیں گے۔
۲ ۔ حضرت نوح(ع) كی دعا:

حضرت نوح(ع) اپنی دعا میں فرماتے ہیں: رب اغفر لی ولوالدی ولمن دخل بیتی مؤمناً۔۔۔"" (نوح:۳۰) پروردگارا! مجھے، میرے والدین اور مومن كو بخش دے۔۔۔
۳ ۔ حضرت ابراہیم (ع) كی دعا:

حضرت ابراہیم اپنے فرزند اور بیوی كو مكہ كی خشك، بے آب و علف سرزمین پر چھوڑ كر خدا كی بارگاہ میں عرض كرتے ہیں: ""ربنا انی اسكنت من ذریتی بوادٍ غیر ذی زرع ً عند بیتك المحرم"" (ابراہیم: ۴۰) پروردگارا! میں نے اپنی ذریت (اولاد) كو بیابان (بغیر كھیتی كے زمین) میں تیرے بیت الحرام كے پاس گھر دیا۔دوسری جگہ اس طرح دعا كرتے ہیں: ""رب اجعلنی مقیم الصلوٰۃ ومن ذریتی ربنا وتقبل دعاء"" (ابراہیم: ۴۲) پروردگارا! مجھے اور میری ذریت كو نماز گزاروں میں سے قرار دے اور ہماری دعا قبول فرما۔
۴ ۔ حضرت سلیمان(ع) كی دعا:

خدائے متعال نے حضرت سلیمان كی دعا كو اس طرح نقل كیا ہے: ""قال رب لو اوزعنی ان اشكر نعمتك التی انعمت علی و علی والدی و ان اعمل صالحاً ترضانی وادخلنی برحمتك فی الصالحین"" (نمل: ۱۹) اس نے كہا: پروردگارا! مجبور كرتا كہ جو نعمت تونے مجھے اور میرے ماں باپ كو عطا فرمائی ہے اس كا شكر ادا كروں اور عمل صالح انجام دوں كہ جسے تو پسند كرے اور مجھے اپنی رحمت كے واسطے اپنے صالح بندوں میں شامل فرما۔
۵ ۔ حضرت یونس(ع) كی مناجات:

خدا وند عالم حضرت یونس كی مناجات كو مچھلی كے پیٹ میں اس طرح سے بیان كرتا ہے: ""۔۔ ۔ فنادی فی الظلمات ان لا الہ الا انت سبحانك انی كنت من الظالمین فاستجبنا لہ ونجیناہ من الغم وكذلك ننجی المؤمنین"" (انبیاء:۸۷۔۸۸)۔۔۔ اندھیروں اور تاریكیوں میں اس نے ندا كی: تیرے بغیر كوئی معبود نہیں، تیری ذات منزہ اور پاك ہے اور میں ظلم كرنے والوں میں سے ہوں، پس ہم نے اس كی دعا كو مستجاب كیا اور اسے غم سے نجات دی۔
۶ ۔ حضرت یوسف(ع) كی دعا:

خدائے متعال حضرت یوسف كی دعا كو حضرت زلیخا كے سلسلے میں اس طرح ذكر كرتا ہے: ""رب السجن احب الی مما یدعوننی الیہ"" (یوسف: ۲۲) پروردگارا! یہ زندان بہتر ہے اس چیز سے جس كی طرف یہ مجھے دعوت دیتے ہیں۔
۷ ۔ حضرت موسی(ع) كی دعا:

قرآن كریم حضرت موسی كی خدا سے دعا كو اس طرح نقل كرتا ہے: رب انی لما انزلت الی من خیرٍ فقیر"" (قصص: ۲۴) پروردگارا! تونے جو بركت میری طرف نازل كی ، میں اس كا محتاج ہوں۔
۸ ۔ حضرت زكریا(ع) كی دعا:

حضرت زكریا نے خدا سے صالح اولاد كیلئے اس طرح دعا كی: ""رب ھب لی من لدنك ذریۃً طیبۃ انك سمیع الدعاء"" (آل عمران: ۳۸) پروردگارا! مجھے اپنی طرف سے پاك اولاد و ذریت عطا فرما، بے شك دعا كا سننے والا ہے۔

خدا وند متعال پیغمبر اسلام (ص) سے خطاب فرماتا ہے: قل انما ادعوا ربی ولا اشرك بہ احداً"" (جن:۲۰) كہوبتحقیق میں اپنے پروردگار كو پكارتا ہوں اور كسی اس كا شریك قرار نہیں دیتا۔

دانشوروں كی نظر میں دعا

دعا، مناجات اور راز و نیازاس قدر ضروری ہے كہ سیكولوجسٹ، اسكالر اورسیاست دان لوگ اس كو ضروری سمجھتے ہیں۔
۱ ۔ ڈاكٹر الكسیس كارل كہتا ہے: دعا كے موقع پہ انسان نہ صرف ایك مخصوص شكل میں دعا مانگتا ہے بلكہ اس كا وجد ان اس طرح عالم تجرد میں محو ہوجاتا ہے كہ خود بھی اس كا تصور نہیں كرسكتا۔ اس حالت كو انسان كے روحی احساس كی ترقی اور پیشرفت كی نسبت نہیں دینا چاہیے۔۔۔ دعا اور مناجات ہمارے اعضاء بدن میں ایسی حالت وجود میں لاتی ہے جس كی نظیر نہیں مل سكتی۔ ابتدائی دنوں میں انسان اس كی طرف متوجہ نہیں ہوتا لیكن ب آہستہ آہستہ اس كا عادی بن جاتا ہے تو كوئی بھی لذت اس كا مقابلہ نہیں كرتی۔ انسان اس حالت میں اپنے آپ كو ایك طر"ح سے خدا كے سپرد كرتا ہے۔ جس طرح سے سنگ مرمر، سنگتراش كے سامنے بے اختیار ہوتا ہے اس كی بھی یہی حالت ہوتی ہے اور اس حالت میں خدا سے رحمت ومغفرت كیدعا مانگتا ہے۔ 6

۲ ۔ ڈیل كارنگی كہتا ہے: آج كے دور میں سیكولوجسٹ بھی ایك طرح سے نئے مذہب كے مبلغ بنچكے ہیں۔ امریكہ میں متوسط طور پہ ہر پانچ منٹ میں ایك آدمی خود كشی كرتا ہے اور ہر دو منٹ میں ایك آدمی پاگل ہوجاتا ہے۔ اگر لوگ اس آرام اور سكون كی طرف جاتے جو مذہب اور مذہبی دعاؤں میں پوشیدہ ہے تو خود كشی اور پاگل پن كے اكثر موارد منتفی ہوجاتے۔ 7

۳ ۔ مہاتما گاندی كا قول ہے: میں نے اپنی زندگی كے عمومی وخصوصی تجربوں میں كافی سختیاں اٹھائی ہیں جو مجھے ناامید كردیتی تھیں اور اگر میں نے ان ناامیدیوں پركامیابیاورفتح پائی بھی ہے تو فقط دعاؤں اور عبادت كے ذریعہ۔ جوں جوں زمانہ گزرتا گیا میرا خدا پر اعتقاد بڑھتاگیا اور مجھے نماز و دعا كی ضرورت بھیزیادہ محسوس ہوئی اوریہ دعا میرے لئے ایسی شكل اختیار كرگئی كہ اس كے بغیر مجھے اپنی زندگی بے اور بے مقصد محسوس ہونے لگی۔ 8

گاندھی دوسری جگہ پہ كہتا ہے: اگر میں خدا كے وجود كا اپنے اندر احساس نہ كرتا تو ان سختیوں اور مصیبتوں سے پاگلہوجاتا اور میرا انجام یہ ہوتا كہ میں اپنے آپ كو دریائے ""ہگلی"" میں پھینك دیتا۔ 9

كمسنی میں دعا

كمسنی اور بچپنے میں دعااور مناجات بچے كی روح پہ ایك شاندار اثر چھوڑتی ہے۔ ممكن ہے كہ بچہ دعا اور مناجات كے الفاظ اور جملوں كو نہ سمجھے لیكن خدا كی طرف توجہ، خدا سے راز و نیاز، استمداد، اس كی بارگاہ میں محتاج ہونے كے اظہار وغیرہ اس بچپنے كے عالم میں درك كرتا ہے اور سمجھتا ہے اور خدا سے امید لگائے رہتا ہے اور اس كا دل خدا وند كی لا محدود ذات سے مطمئن ہوجاتا ہے۔ اپنے باطن میں ایسے سہارے كا احسساس كرتا ہے جو اس كی تمام زندگی كیلئے سعادت اور نجات كا سرمایہ بنتا ہے اور سخت مواقع اور حوادث پر اسی قدرت پہ تكیہ كرتا ہے اور اسی سے مدد لیتا ہے۔ جو اس كی ذات پہ متكی ہو اور اس سے مطمئن ہو تو نہایت ہی آرام سے زندگی كے جوار بھاٹا میں اپنی شخصیت كی حفاظت كرسكتا ہے۔

اسی بناپر روایات میں آیا ہ كہ بچے كو بچپنے سے ہی نماز سے آشنا كیا جائے۔ پیغمبر اكرم (ص) فرماتے ہیں: ""اپنے بچوں كو سات سال كی عمر سے نماز كی ترغیب دو"" 10

ایك دانشور كا كہنا ہے: كتنا اچھا ہوگا كہ ہماپنے بچوں كو سكھائیں كہ وہ ہر روز مختصر طور پہ دعا پڑھیں كیونكہ دعا ہر حاجت اور جیاز كے رفع ہونے كیلئے ایك بہترین موقع ہے۔ 11

اعتراضات اور ان كے جوابات

پہلا سوال: خدا وند متعال نے ہر چیز كو حكمت اور نظم كے مطابق خلق كیا ہے لہٰذا دعا ومناجات كیلئے كوئی گنجائش نہیں ہے؟

جواب: اس میں كوئی شك نہیں كہ خدا نے تقدیر كو اپنی حكمت اورعلم كی بنیاد پر خلق كیا ہے لیكن قابل غور بات یہ ہے كہ تقدیر میں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو ایك یا كئی شرطوں كے وجود یا عدم پر منحصر ہیں یعنی اگر وہ شرط حاصل ہوجائے تو تقدیر بھی متحقق ہوجائے گی ورنہ نہیں اوردعا بھیان ہی شرائط میںسے ایك ہے۔ دوسسری عبارت میں دعا بھی تقدیر الٰہی كا ایك حصہ ہے مثلاً ایك مریض كی تقدیر یہ ہے كہ اگر اس كا علاج كیا جائے تو وہ صحت یاب ہوسكتا ہے اور اگر علاج نہ كریں تو وہ اس مرض سے مرجائے گا۔

دوسرا سوال: خدا وند متعال ظاہر وباطن سے باخبر ہے اور انسانوں كی مصلحتوں كے بارے میں علم ركھتا ہے لہٰذا خاموش اور اس كے آگے تسلیم رہنا چاہیےاور دعا كی كوئی ضرورت نہیں؟

جواب: بے شك خدا وند ہر چیز سے با خبر ہے، ہر چیزچاہے وہ مخفی ہو یا آشكار، ظاہر ہو یا باطن، بلكہ ہمارے افكار سے بھی آگاہ ہے اور جو چیز انسان كیلئے مصلحت ركھتی ہو كو انجام دیتا ہے لیكن ممكن ہے كہ ایك چیز كی مصلحت دعا ہو یعنی اس چیز كی مصلحت دعا سے مشروط ہو۔ جب دعا كرے گا اسے وہ چیز ملے گی۔

میسر بن عبد العزیزامام صادق(ع) سے نقل كرتا ہے كہ آپ نے فرمایا: اے میسر! خدا سے مناجات كرو اور یہ نہ كہوكہ جو كچھ لوح تقدیر میں ہے اور خدا كی مشیت ہے وہی ہوگا كیونكہ خدا كے پاس ایك مقام اور منزلت ہے كہ جسے دعا اور درخواست كے بغیر حاصل نہیں كیا جاسكتا اور اگر ایك شخص اپنا منہ بند كرلے اور دعا نہ كرے تو اسے كچھ بھی نہیں ملے گا۔ پس دعا كرو تا كہ اس كی عطا اور بخشش كے مستحق قرار پاؤ۔ اے میسر! كوئی بھی دروازہ كھٹكھٹایا نہیں جاتا مگریہ كہ بالآخر وہ اس كیلئے كھل جاتا ہے۔ 12

تیسرا سوال: بعض لوگ دعا كو خدا كی بارگاہ میں جسارت اور گستاخی سمجھتے ہیں اور كہتے ہیں: دعا یعنی خدا كا مذاق كرنا اور یہ ایك شرم آور عمل ہےَ؟ 13

جواب: ان لوگوں كا جواب یہ ہے كہاگر ایك انسان خدا كی بارگاہ میں خضوع اور خشوع كے ساتھ روتے ہوئے دعا كرے تو كیا یہ گستاخی اور بے ادبی ہے؟ اگر كوئی اپنےآپ كو اس كے سامنے حقیر سمجھ كر خود كو اس كا محتاج سمجھے اور اس سے مدد مانگے، كیا یہ خدا كیلئے كسی غرض كو معین كرتا ہے؟ یا برعكس، ایك فرض شناس آدمی كا كام یہ ہے كہ ایك بے نیاز شخصیت خاص كر رب العالمین سےدرخواست كرے!

اگر بنا بر فرض محال دعا انسان كی بیماری یا افراد اور اجتماعی امور كی اصلاح میں كسی قسم كی تاثیر نہ ركھتی ہو ، كیا پھر بھی اسے خدا وند متعال كی بارگاہ میں وسیلہ اور رابطہ قرار نہیں دیا جاسكتا اور اس كے ذریعہ خدا سے ہم صحیح اور مستقیم راستے كیلئے مدد نہیں لے سكتے؟ یعنی اس كے ذریعہ ہم زندگی كے پیچیدہ مراحل كو خدا سے مدد مانگ كر صحیح طرح سے تشخیص دے كر كشف كرسكتے ہیں؟ اور پھر اپنے اہداف كو تكمیل تك پہنچانے اور اس نہائی كمال تك پہنچنے كیلئے نہایت ہی سكون سے قدم اٹھا سكتے ہیں۔ہاں، دعا اور مناجات انسان كی فكر سے مخفی اور پوشیدہ راستوں كو آشكار كرتی ہے اور انسان ہر قسم كے انحراف اور فكر وعمل میں ڈگمگانے سے بچاتی ہے۔

دعا اور مناجات كے انفرادی اور اجتماعی آثار

1۔ خدا كے ساتھ رابطہ

دعا اور مناجات كا ایك اثر یہ ہے كہ انسان كا خدا سے ہر پہلو میں نزدیك رابطہ ہوتا ہے۔ اس مطلب كو سمجھنے كیلئے ایك مثال پیش كرتے ہیں۔ایك صحرا میں، سمندر كے نزدیك ہی ایك چھوٹا سا حوض ہے، اگر اس كا پانی اسی طرح رہے اور اسے كسی بھی طرح استعمال نہ كیا جائے تو تھوڑی ہی مدت كے بعد كیڑے مكوڑوں كی وجہ سے خراب اور بدبو دارہوجائے گا یا گرمی كی وجہ سے بخار بن كر اڑ جائے گا، ختم ہو جائے گا لیكن اگر اسے سمندر سے ملادیا جائے (یعنی وہ حوض سمندر سے مل جائے اور اپنی ہستی كو ناچیز سمجھے) تو آہستہ آہستہ وہ دریائے بیكران سے مل جائے گا اور جب اس سمندر سے مل كر اس میں فانی ہوجائے گا تو پھر وہ حوض نہیں رہے گا بلكہ اب جو كچھ بھی دریائے بیكران ہے اور وہ اس میں فنا ہوگیا ہے۔ اب اسے كوئی حوض نہیں كہہ سكتا بلكہ وب وہ حوض اس دریائے بیكران كا ایك حصہ ہے اور اب اسے كوئی چیز نجس بھی نہیں كرسكتی بلكہ سمندر كے پانی كی طرح وہ بھی پاك و طاہر ہوگا اور۔۔۔

اسی طرح معنوی امور میں بھی كہ جسے دعا اور مناجات كہہ سكتے ہیں كے ذریعہ انسان اپنے آپ كو خدا كی نامحدود ذات سے متصل كرے تو اس میں بھی اس نامحدود ذات كی صفات جلوہ پیدا كریں گی۔ وہ اس كی ذات با بركت كے كمال و جمال كا مظہر بنے گا اور زمانے كی متلاطم موجیں اسے مضطرب نہیں كرسكتیں۔

2۔ روح روان میں سكون اور چین

دعا اور مناجات كا ایك اور مہم ترین اثر، روحی سكون اور قلبی اطمئنان ہے۔ بے شك آج كا یہ متمدن دور، زندگی كے ہر پہلو میں تعجب انگیز اور قابل ملاحظہ ترقی كر چكا ہے لیكن اس كے باوجود معنوی پہلوؤں میں اس نے نہ صرف ترقی نہیں كی ہے بلكہ برعكس تنزل اور پستی كی راہ كو اختیار كرچكا ہے ۔ آج كا ہر انسان بے چین اور مضطرب ہے، اسے اطمئنان قلب اور سكون ہی نہیں ملتا۔

لہٰذا دعا اور مناجات خدا سے راز و نیاز، روحی علاج اور اضطراب كو دور كرنے كیلئے ہے۔ تسكین روح اور اطمئنان قلب كیلئے ایك بہترین اور مؤثر ترین راستہ ہے۔ راز ونیاز كرنے والا كسی بھی صورت میں اپنے آپ كو تنہا محسوس نہیں كرتا اور شگفت انگیز صبر واستقامت كے ذریعہ غم و اندوہ كو خود سے دور كرتا ہے اور اپنے آپ كو ہر گز پریشان اور ناامید نہیں ہونے دیتا ہے۔

جب مذہب پہ ایمان اس قدر صبر اور استقامت عطا كرتا ہے تو اضطراب اور پریشانی كے وقت ہم كیوں خدا كی طرف رجوع نہیں كرتے؟ ہم كیوں جرمنی كے فلسفی ""كنٹ"" كی فرمائش پہ توجہ نہیں كرتےجس كا كہنا ہے: ""خدا سے توسل كرو كیونكہ تمہیں ایسی چیز كی ضرورت ہے اور اگر تم فطری یا تربیتی اثر كے نتیجے میں ایك دین آدمی ہو تو بھی دعا تمہارے لئے مفید ہے۔ میری دعا كے عملی اثرات سے كیا مراد ہے؟ میری مراد یہ ہے كہ خدا كی طرف جانا اور دعا سیكولوجی كے تین اصولوں كو (كہ جس میں سب چاہے وہ مشرك ہوں دین دار یا خدا شناس؛ اسی كے نیاز مند ہیں) زندہ كرتی ہے۔

الف) دعا اور مناجات ہماری پریشانیوں اور سختیوں میں مدد كرتی ہے۔

ب) مناجات كی صورت میں انسان یہ احساس كرتا ہے كہ تن وتنہا نہیں ہے اور كوئی اس كے غم میں شریك ہے۔

ج) دعا انسان كو سعی وتلاش كیلئے مجبور كرتی ہے اور یہ عمل كی طرف پہلا قدم ہے، میں قبول نہیں كرسكتا كہ كوئی خدا كی بارگاہ میں كسی خاص مقصد كے حصول كیلئے آئے اور اس كی مراد بر نہ آئے۔ دوسری عبارت میں اپنے ہدف كیلئے قدم نہ اٹھائے۔ الكسیس كارل كہتا ہے: مناجات بہت بڑی طاقت ہے جسے انسان اپنے اندر پیدا كرلیتا ہے پس كیوں ہم اس سے فائدہ نہ اٹھائیں؟ (آئین زندگی: ص۱۹۸ڈاكٹر الكسیس كارل كہتا ہے: كچھ ایسی عبادتیں ہیں كہ جو خاص طریقے سے انجام دی جاتی ہیں لیكن دعاجہاں بھی ہو، خدا انسان كے ساتھ صرف اسوقت كلام كرتا ہے جب سكون اور چین اس كے اندرون پر غلبہ حاصل كرلیتا ہے۔ اس سكوت، سكون اور آرام كی پناہ گاہ میں جب كہ اس كی روح فكر خدا كی طرف پرواز كی حالت میں ہے، انسان اپنے اعضٓء و جوارح كو بھی آرام اور سكون دے سكتاہے۔ روح كو سبك اور فكر و تعقل كو خالص اور پرنور بنا دیتا ہے اور اس دشوار زندگی كو جو نئے كلچر كی بنا پر اس كیلئے سنگین ہوگئی ہے ہے اور اسے لاچار وبےكس بنا گئی ہے آسان بنادیتی ہے اور اس كے مقابلے میں اس كوصبر تحمل كی طاقت دیتی ہے۔ 14

دعا اور مناجات اپنی خصوصیات كو خاص علامتوں اور اپنی منحصر نشانیوں كے ذریعہ معین كرتی ہے۔ نگاہ میں صفا وجلوہ، رفتار میں سنجیدگی، خوشی و سرور، مصمم اور پریقین صورت، ہدایت كی صلاحیت، وقائع اور حوادث كااستقبال، ایك سپاہی یا شہید كا سادگی سے موت كے گلے لگ جانا؛ ایسا لگتا ہے كہ دعا انسان كی ایسی تربیت كرتی ہے كہ یہ معاشرہ اور زندگی كا ماحول وغیرہ لباس كی صورت میں اس كے تن پہ تنگ ہوجاتا ہے۔

خدا سے ملاقات ان كے باطن كو صلح اور آشتی سے اس طرح لبریز كردیتی ہے كہ اس كے نور كی كرنیں اس كے چہرے سے نمایاں ہوتی ہیں اور یہ لوگ جہاں بھی جائیں ان خصوصیات كو اپنے ساتھ لیتے ہیں۔ 15

3۔ جنون سے نجات

مناجات كا تیسرا اثر یہ ہے كہ انسان كو جنون اور دیوانے پن سے بچاتی ہے۔ قابل ذكر بات یہ ہے كہ آج كل كےدور میں ذہنی پریشانیاں،ذہنی دباؤ اور وغیرہ انسان كی روحی اور روانی حالت كو تہس نہس كردیتی ہیں لیكن سیكولوجی كے ڈاكٹروں كا كہنا ہے كہ اس بیماری كا بہترین علاج خدا كی طرف رجوع كرنا اور اس كی بارگاہ میں راز ونیاز ہے۔ مشہور سیكولوجسٹ ""ڈیل كارنگی"" كہتا ہے: آج كل ہزاروں افراد جو پاگل خانوں میں زندگی بسر كررہے ہیں اگر انھوں نے اس بالائی طاقت ""خدا"" كی طرف رجوع كر كے اس سے راز ونیاز كیا ہوتااور تن وتنہا اس میدان میں پریشانیوں اور سختیوں كا مقابلہ نہ كرتے تو اس وقت ان كی یہ حالت ہوتی۔ 16

4۔ خود كشی سے نجات

دعا اور مناجات كا ایك فائدہ اور اثر یہ ہے كہ انسان كو خودكشی سے نجات دیتی ہے۔ جیسا كہ ہم نے پہلے ذكر كیا رنج وغم، سختیوں اور پریشانیوں نے اس زندگی كے میدان جنگ میں آج تك بہت نقصان پہنچایا ہے اور بہت كم لوگ ایسے ہیں جو اس دشمن كے مقابلے میں ڈٹے رہے ہیں اور اس كے سامنے مغلوب نہیں ہوئے اوراس سے ہار نہیں مانی۔ دانشوروں نے اس دشمن سے بچنے كیلئے بہت سارے طریقے اور راستے دكھائے ہیں لیكن سب نے دعا كا ایك تعجب انگیز، مضبوط اور قوی تكیہ گاہ اور سہارے كے طور پہ تعارف كروایا ہےاور ان كی نظر میں یہ بہترین راستہ ہے۔ ڈیل كارنگی كہتا ہے: ہم جب اپنے مشكلات اور مصائب كو خدا كے سامنے ركھ سكتے ہیں اور اس كے ذریعہ حل بھی كرواسكتے ہیں تو پھر كیا ضروری ہے كہ ہم اپنی مشكلوں سے ڈریں اور پریشان ہوجائیں۔۔۔ 17

5۔ دعا اور تہذیب اخلاق

دعا اور مناجات كا ایك اور اثر تہذیب اخلاق اور نفس كا تزكیہ ہے۔ دعا انسان كے دل و روح كو پاك اور خالص كرتی ہے اور اسے ناپاكی اور انحراف وگمراہی سے نجات دیتیہے۔ اگر اپنے خاص شرائط كے تحت دعا كی جائے اور خدا سے رابطہ بقرار كیا جائے اوراسی طرح سب اس حیات بخش اور زندگی ساز عمل كی طرف توجہ كریں اور ہمیشہ خدا سے رابطہ قائم ركھ كر دعا كریں اور خدا ہی سے اپنے فرائض اور واجبات كو اخذ كریں تو مدینہ فاضلہ كہ جس كی آرزو سقراط، ارسطو اور دوسرے دانشمند اور دینی رہنما كرتے آئے ہیں وجود میں آئے گا اور اس كے برعكس یعنی خدا سے رابطہ ختم كردینے اور دعا ترك كرنے سے فقط انحراف، گمراہی اور فساد كی دلدل میں پھنس جائے گا اور معاشرے میں پستی، ذلت، بد گمانی، حسد اور بد اخلاقی كی دوسری ہزاروں مشكلات وجود میں آئیں گی۔

واقعاً كیوں زلیخا اس خوبصورت اور جوان یوسف كو اپنے قابو میں لاسكی؟ كیا ہویٰ وہوس اور شہوت نفس فقط زلیخا كے وجود میں تھی اور بس؟ نہیں، حضرت یوسف كے وجود میں بھی دوسروں كی طرح یہ سر كش نفس، جنسی غریزہ اور شہوت تھی لیكن ان كے پاس ایك اور طاقت تھی۔ وہ خدا كی پناہ میں اس سے لو لگائے ہوئے تھے اور دعا مانگ رہے تھے، مناجات كررہے تھے اور اس طرح سے انھوں نے اپنے نفس كو كنٹرول كر ركھا تھا، انھوں نے نفس كی اطاعت نہیں كی لیكن كئی سال جیل میں تنہا رہے اور مصیبتیں برداشت كیں ، اس راستے سے نفس كو اپنے قابو میں لے لیا اور اس پر كامیابی حاصل كر لی۔

6۔ دعا اور فكری تبدیلی

دعا اور مناجات كا اہم اور ضروری اثر یا فائدہ یہ ہے كہ مناجات كرنے والے كی فكر كا اس ازلی و ابدی قدرت اور خالق عقل سے مستقیم رابطہ برقرارہوجاتا ہے۔ یہ دعا ہی ہے كہ جس كے ذریعہ ہم صحیح اور دقیق طور پہفكر كرسكتے ہیں اور ہر قسم كی خطا، غلطی اور شك وتردید سے بچ سكتے ہیں۔اور صحیح كو غلط سے تشخیص دے سكتے ہیں اور اس كے نتیجہ میں انفرادی اور اجتماعی مشكلات كو حل كرسكتے ہیں۔

ایك عیسائی دانشور ""كلن گلارك"" لكھتا ہے: دعا كے عمل كی سطح فكر سے بھی گہری ہے یعنی دعا كی سطح اتنی گہری ہے كہ وہاں سے ہم سب اپنے باپ ""خدا"" كی آواز كی طرف متوجہ ہوسكتے ہیں اور اس كی طرف رغبت پیدا كرسكتے ہیں۔ 18

اس بنا پر دعا انسان كیلئے فكر كے دروازے كھول كر اس كے دل كو صاحب بصیرت بنا دیتی ہے اور اسے نئی اور تازہ فكر عطا كرتی ہے۔ پھر وہ انسان حوادث، امراض، علمی مشكلات اور ان كے جواب اور راہ حل كو بڑی آسانی اور مفید طریقے سے حاصل كر لیتا ہے اور اصلاً اس كے مقابلے میں لاچار و بیكس نہیں ہوتا۔ اور فكری انحراف و گمراہی سے محفوظ رہتا ہے۔

ڈاكٹر لاباخ كہتے ہیں: جب دعا كرتے ہو تو قلم اور كاغذ ہاتھ میں ركھو، جب خدا تمہارے ذہن میں كوئی فكر ڈال دے تو اسے لكھو اور اپنی نظروں كے سامنے ركھو تا كہ اسے عملی طور پہ انجام دے سكو۔ 19

7۔ دعا اور مصمم ارادہ

دعا كا ایك اور فائدہ یہ ہے كہ دعا كرنے والے كا ارادہ مستحكم، قوی اور مضبوط ہوتا ہے۔ بنیادی طور پہ جب یہ انسان كسی مقام اور كمال كے درجہ كو پانا چاہتا ہے (چاہے وہ ترقی مادی امور میں ہو یا معنوی امور میں) تو اسے قوی ارادے كی ضرورت ہوتی ہے جو روحی ملكہ كا آخری مرتبہ ہے۔ اور روشن ہے كہ اگر كسی كا ارادہ ضعیف ہو یا ختم ہوگیا ہو تو دن بدن پستی كی طرف تنزل كرتا ہے اور فرصت كے قیمتی لمحے اس كے ہاتھ سے نكل چكے ہوتے ہیں لہٰذا جو قوم بھی اجتماعی طور پہ مضبوط ارادوں، سعی وتلاش اور متانت سے محروم ہوچكی ہو اس كی مثال ایك ایسی كشتی كے مانند ہے جو بادبان اور ناخدا كے بغیر ہو اور حوادث روزگار اور مخالف ہوائیں اسے نابود كرنے پہ تلی ہوں۔

ڈاكٹر الكسیس كارل كہتے ہیں: عبادت ایك بڑی طاقت ہے جسے انسان اپنے وجود میں پیدا كرسكتا ہے۔ علم طب میں قوۂ جاذبہ كے مانند میں نے ایسے لوگوں كو دیكھا ہے كہ جن كا علاج دوا وغیرہ سے نہیں ہوتا ہے، انھیں دعا ، مناجات اور عبادات كے ذریعہ شفا ملی ہے۔ 20

دعا اور كوشش: بعض لوگ معتقد ہیں كہ دنیا میں برائیوں كو جڑ سے اكھاڑ پھینكنے اور منافع حاصل كرنے كا واحد راستہ یہ ہے كہ انسان فقط خدا كی رحمت سے امید ركھے اور كوئی بھی كام نہ كرے تا كہ خدا وند اس كی مشكلات كو دفع ورفع كرے۔ اس نظریے كو تحریك ""رفورم"" نے وجود میں لایا ہے اور یہ نظریہ كاملاً باطل ہے كیونكہ اگر تمام كام خدا ہی كے سپرد ہوتے اور انسان كا كام یہ ہوتا كہ صرف بیٹھ كر اس سے مانگ كر كھائے تو اس صورت میں اس دنیا اور زندگی كا كوئی ہدف اور مقصد نہ ہوتا اور معاذ اللہ پروردگار بشریت كے ایك آسمانی خادم كی حیثیت تك محدود رہ جاتا۔

خدا نے ہمیں ہوش اور عقل عطا كی تا كہ ہم فكر كرسكیں اور قوست عطا كی تا مختلف كاموں كے ذریعہ ایك نتیجہ تك پہنچ سكیں اور اگر یہ چیزیں نماز اور دعا كے ذریعہ حاصل ہوتیں تو پھر عقل اور فكر كی ضرورت ہی نہیں تھی۔ نماز اور دعا كوشش كو تكمیل تك پہنچانے كیلئے لازم اور ضروری ہیں یعنی اگر دعا كو كوشش كی جگہ قرار دیا جائے تو اس كا نتیجہ بہت ہی خطرناك ہوگا۔ 21

اس سلسلے میں امام صادق(ع) كی حدیث ہے: خدا وند متعال نے اپنے بندوں كیلئے معین فرمایا ہے

كہ وہ اپنے مقاصد كو اسباب و وسائل كے ذریعہ اس سے مانگیں كہ جنھیں ان كیلئے قرار دیا ہے اور انھیں اس قانون كی پیروی كا حكم دیا ہے۔ 22

دوسری حدیث میں آیا ہے: سنت الٰہی یہ ہے كہ ہر چیز كو اسباب كے ذریعہ جاری كرے، اس بنیاد پر خدا وند عالم نے ہر چیز كیلئے اس دنیا میں ایك سبب قرار دیا ہے اور ہر سبب كیلئے شرح اور حكمت اور ہر شرح اور حكمت كیلئے علم اور ہر علم كیلئے در ناطق معین فرمایا ہے۔ 23

آخر میں بحث كا یہ نتیجہ نكلتا ہے كہ دعا واجب اور ضروری ہے لیكن عمل اور حركت بھی انسان كی طرف سے لازم ہے۔


1. الكسیس كارل: نیایش.

2. قاموس المحیط، مادہ دعا.

3. كافی: ج۲، ص۲۶۷.

4. عدۃ الداعی: ص۲۴.

5. كافی: ج۲، ص۲۶۷.

6. انسان موجود ناشناختہ: ص۹۳.

7. علل پیشرفت انسان وانحطاط مسلمین: ص۵۳.

8. وہی مدرك: ص۵۴.

9. وہی مدرك.

10. مستدرك الوسائل: ج۱، ص۱۷۱.

11. دعا بزرگترین نیروھای جہان: ص۸۰.

12. كافی: ج۲، ص۴۶۶.

13. الكسیس كارل، نیایش: ص۲۴۵.

14. نیایش:ص۱۲ .

15. نیایش:ص۲۱.

16. آئین زندگی: ص۱۹۶.

17. وہی مدرك: ص۱۹۵.

18. دعا بزرگترین نیروی جہاں: ص۵۴.

19. وہی مدرك:ص۶۲.

20. انسان موجود ناشناختہ:۱۹۷.

21. ندای سیاہ: ص۲۰۰۔۲۰۳.

22. بحار الانوار:ج۲، ص۹۰.

23. مجمع البحری

 

Copyright © 2009 The AhlulBayt World Assembly . All right reserved

Fatal error: Exception thrown without a stack frame in Unknown on line 0